بلوچ راجی مچی کے شرکا پر ریاستی کریک ڈائون و بربریت کیخلاف خضدار، قلات، منگچر، خاران ،نوشکی ، مستونگ ونوکنڈی ،دالبندین سمیت بلوچستان کے کئی علاقوں میں شٹر ڈائون ہڑتال ہے ،کاروباری مراکز بند ہیں۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کی کال پر خاران میں آج بمورخہ 28 جولائی 2024 کو مکمل بازاریں اور کاروباری مراکز بند ہیں اور عوام کی ایک بڑی تعداد نے خاران سے گوادر میں منعقد بلوچ راجی مُچی کا رُخ کر لیا ہے۔
گوادر میں بلوچ راجی مچی کے لئے جانے والے مختلف کاروانوں اور قافلوں کو ریاستی بربریت کا سامنا ہے، مختلف شاہراوں پر قافلوں پر برائے راست فائرنگ کر کے جانی و مالی نقصانات پہنچایا جا رہا ہے۔
اِسی اثناء میں کوئٹہ سے نکلا ہوا قافلہ جو کہ مختلف رکاوٹیں عبور کر کے مستوگ سے گزر رہا تھا ، جس پر ریاستی افواج کی جانب سے برائے راست فائرنگ کے واقعات میں درجنوں بلوچ نوجوان اور خواتین زخمی ہوئے، تو دوسری جانب کراچی سے تیار قافلے کو پورے دن روکھے رکھا گیا تاکہ وقت گزرنے پر لوگوں کے حوصلے پست ہوں اور قافلے منتشر ہو جائیں۔
بلوچستان کے مختلف شہروں باالخصوص مکران ڈویژن میں مکمل طور پر مواصلاتی نظام منقطع کر دیا گیا ہے۔ موبائل ڈیٹاء انٹرنیٹ سے لیکر سیلولر نیٹورک اور پی ٹی سی ایل کے تمام تر نیٹورکس کی بندش سے ایک طرف تو بلوچ یکجہتی کمیٹی کی طرف جانے والے افراد کو شدید مشکلات کا سامنا ہے تو دوسری جانب مکران بالخصوص گوادر سے اس وقت کسی قسم کی معلومات میڈیا اور عوام تک نہیں پہنچ پا رہی۔
اسی طرح بلوچ یکجہتی کمیٹی کی کال پر نوکنڈی دالندین سریاب میں آج بمورخہ 28 جولائی 2024 کو مکمل بازاریں اور کاروباری مراکز بند ہیں۔
اس سلسلے میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کا کہنا ہے کہ بلوچ راجی مچی کے قافلوں پر ریاستی جبر اور بربریت اور گوادر سمیت مکران میں کرفیو نافذ کرنے کے خلاف آج خضدار، قلات، منگچر، نوشکی، دالبندین، مستونگ، خاران سمیت بلوچستان کے بیشتر دیگر علاقوں میں دکانداروں اور کاروباری حضرات کی جانب سے رضاکارانہ بنیادوں پر شٹر ڈاؤن ہڑتال کی جا رہی ہے۔ یہ بلوچ نسل کشی کے خلاف ایک عوامی جدوجہد ہے، جسے بلوچ عوام کی ہر طرح کی مدد و تعاون حاصل ہے۔ اس جدوجہد کو نہ ریاست طاقت و تشدد کے استعمال سے روک سکتی ہے اور نہ جھوٹے پروپیگنڈے اور بیانیے سے۔ 28 جولائی کو گوادر میں ہونے والا بلوچ راجی مچی آج پورے بلوچستان میں پھیل چکا ہے۔ یہ جدوجہد عوامی طاقت اور قوت سے بلوچ سرزمین پر بلوچ نسل کشی کا مکمل خاتمہ کرے گی۔
گوادر میں بلوچ راجی مچی کے لئے جانے والے مختلف کاروانوں اور قافلوں کو ریاستی بربریت کا سامنا ہے، مختلف شاہراوں پر قافلوں پر برائے راست فائرنگ کر کے جانی و مالی نقصانات پہنچایا جا رہا ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے منعقدہ بلوچ راجی یکجہتی ایک پُر امن جلسہ ہے جو کہ آج بمورخہ 28 جولائی کو بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں طے شدہ ہے، جسکی کامیابی کے قوی امکانات کو محسوس کرتے ہوئے ریاست مکمل بوکھلائٹ کا شکار ہے اور پُر امن مارچ کرنے والوں پر ریاستی بربریت انتہائی قابل مذمت ہے جس کے نتیجے میں آج بلوچستان کے مختلف شہروں سمیت خاران بھر میں شٹر ڈاون ہڑتال اور کاروباری مراکز بند رہیں گی۔