پاکستانی فورسز نے بلوچ راجی مچی کیخلاف جاری کریک ڈائون کے تحت مستونگ اور کوئٹہ سے مزید 8 نوجوانوں کو حراست میں لیکر جبری طور پر لاپتہ کردیا ہے ۔
مستونگ میں فورسز نے بلوچ راجی مچی کے قافلوں پر فائرنگ اور تشدد کے بعد2 نوجوانوںکو حراست میں لیکر جبری لاپتہ کردیا جن کی تاحال شناخت نہیں ہوسکی ۔
فائرنگ سے 14 افراد زخمی ہوگئے جن میں 2 کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے ۔
سوشل میڈیا میں وائرل ویڈیو میں دیکھا جاسکتاہے کہ مستونگ میں فورسز فائرنگ کرتے ہوئے نوجوانوں کو گھیسٹ کر گاڑی میں ڈال کر لے جارہے ہیں۔
دوسری جانب کوئٹہ میں شہوانی پلازہ میں پولیس اور سول کپڑوں میں ملبوس خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے رات گئے ایک ہاسٹل پر چھاپہ مارتے ہوئے کمروں کے دروازے توڑدیئے اور طلباء کو تشدد کا نشانہ بنایاکر 6 کے قریب طلباء کو حراست میں لیکر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے جن میں سے چار کی شناخت راغے واشک کے رہائشی اور کیمسٹری ڈپارٹمنٹ کے اسلام الدین ولد حاجی عبدل خیر، آواران سے تعلق رکھنے والے میڈیکل کے طالب علم شمیم ولد عبدالصمد، راغے واشک سے تعلق رکھنے والے عنایت ولد ڈاکٹر ثناء اور ارشد بلوچ کے ناموں سے ہوئی ہے ۔
جبکہ دیگر 2 طلباء کی شناخت تاحال نہیں ہوسکی ہے۔