انسانی حقوق کے سرگرم و متحرک کارکن اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے ہیومن رائٹس کمیشن آپاکستان کے چیئر پرسن اسد اقبال بٹ کی کراچی پولیس کے ہاتھوں گرفتاری پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ جب ریاست ایچ آر سی چیئرپرسن کوکراچی میں غیر قانونی طور پر حراست میں لے لیتی ہے، تو سوچوبلوچستان میں فوج کس طرح کے جبر و استبداد میں ملوث ہے؟
ان کا کہنا تھا کہ میں انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان کے چیئرپرسن اسد اقبال بٹ کی غیر قانونی حراست کی شدید مذمت کرتا ہوں۔ سندھ پولیس نے انہیں پانچ گھنٹے تک غیر ضروری حراست میں رکھا اور مختلف الزامات اور غیر متعلقہ سوالات کا نشانہ بنایا۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے کہا کہ انہیں 28 جولائی کو گوادر میں منعقد ہونے والے بلوچ قومی اجتماع میں شرکت کے حوالے سے ہراساں کیا گیا اور انہیں کہا گیا کہ وہ بلوچ عوام کی جبری گمشدگیوں سے متعلق مقدمات سے دور رہیں۔
انہوں نے کہا کہ جب ریاستی پولیس کراچی جیسے شہر میں انسانی حقوق کی ایک آزاد تنظیم کی چیئرپرسن کو غیر قانونی طور پر حراست میں لے لیتی ہے، تو کوئی صرف اس بات کا تصور کرسکتا ہے کہ بلوچستان میں ریاستی فوج کس طرح کے جبر و استبداد میں ملوث ہے، جہاں نہ میڈیا موجود ہے اور نہ ہی انٹرنیٹ۔