اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے بدھ کو امریکی کانگریس سے اپنے ایک سخت خطاب میں غزہ میں جاری اسرائیل کی جنگ کا دفاع کیا اور ان امریکی مظاہرین کے احتجاج کی مذمت کی جس کی وجہ سے بہت سےممتاز ڈیموکریٹک قانون سازوں نے اس اجلاس کا بائیکاٹ کیا اور ہزاروں مظاہرین غزہ جنگ اور اس سے ہونے والے انسانی بحران کی مذمت کے لیے دارالحکومت میں موجود ہیں۔
نیتن یاہو کی تقریر کا پچاس سے زیادہ ڈیموکریٹس اور آزاد سینیٹر برنی سینڈرز نے بائیکاٹ کیا۔ سب سے زیادہ قابل ذکر غیر حاضری نائب صدر کاملا ہیرس کی تھی جو سینیٹ کی صدر کے طور پر کام کرتی ہیں، جنہوں نے کہا کہ ایک بہت پہلے سے طے شدہ دورےکی وجہ سے وہ اس مشترکہ اجلاس میں شرکت نہیں کر سکیں۔
غزہ میں جنگ کے نو ماہ بعد، نیتن یاہو نے "مکمل فتح” تک جنگ جاری رکھنے کا عزم کیا۔
انہوں نے حماس اور ایران کے حمایت یافتہ دیگر مسلح گروپوں کے خلاف اپنے ملک کی لڑائی میں امریکہ کی حمایت کو تقویت دینے کی بھی کوشش کی۔
انہوں نے تلخی کے ساتھہ امریکہ میں غزہ جنگ کے خلاف وسیع پیمانے پر موجود مخالفت کی شدید مذمت کی۔
نیتن یاہو، جنہوں نے حماس کی حراست میں اسرائیلی یرغمالوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے زرد رنگ کی پن لگائی ہوئی تھی کہا۔”امریکہ اور اسرائیل کو ایک ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔ جب ہم ایک ساتھ کھڑے ہوتے ہیں تو درحقیقت سب کچھ آسان ہوتا ہے: ہم جیت جاتے ہیں، وہ ہار جاتے ہیں۔”
نیتن یاہو کی تقریر نے اس وقت مختلف لہجہ اختیار کرلیا جب انہوں نے اپنے ملک کا دفاع کیا لیکن ان مظاہروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جو ان کی تقریر کے وقت ایوان کے باہر ہو رہے تھے۔ انہوں نےجنگ کے خلاف احتجاج کرنے والوں کا مذاق اڑااتے ہوئے، انہیں اسرائیل کے مخالفین کو فائدہ پہنچانے والے احمقوں سے تعبیر کیا۔
کیپیٹل کے قریب ہونے والے کچھ مظاہرے افراتفری میں بدل گئے جن میں چند سو گز کے فاصلے پر سخت حفاظتی انتظامات والا کیپیٹل گراؤنڈشامل تھا۔ قریبی واقع یونین سٹیشن کے باہر مظاہرین نے امریکی پرچم سرنگوں کردیے اور فلسطینی پرچم بلند کیے۔ کیپیٹل کے آس پاس کی سڑکوں پر موجود سیکیورٹی اہل کاروں کی مظاہرین کے ساتھ تکرار ہوئی جس میں مظاہرین کے خلاف ڈنڈوں اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔
ایوان میں بہت سے حاضرین نے انکے لیے تالیاں بجائیں، لیکن سرکردہ ڈیموکریٹس نے نہ تو تالیاں بجائیں اور نہ ہی کھڑے ہوئے ۔
نیتن یاہو نے الزام لگایا کہ امریکہ میں جنگ کے مخالف مظاہرین عسکریت پسندوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔
حماس کے رہائی پانے والے سابق یرغمالوں اور ان کے خاندانوں نے ایوان میں نیتن یاہو کی تقریر سنی۔
دونوں امریکی پارٹیوں کے قانون ساز، اسرائیلی رہنما کو سراہنے کے لیے بار بار ا ٹھ کر کھڑے ہوئے، جب کہ سیکیورٹی نے گیلری میں موجود ان مظاہرین کو باہر نکال دیا جو ایسی ٹی شرٹس کی نمائش کر رہے تھے جن پر ، رہنما ؤں سے جنگ بندی کا کوئی معاہدہ طے کرنے، اور تمام یرغمالوں کی رہائی کے مطالبوں پر مبنی نعرے لکھے تھے۔
ایوان میں مشی گن کی ڈیموکریٹک نمائندہ رشیدہ طلیب نے، جو رو رہی تھیں ایک بینر تھام رکھا تھا جس پر لکھا تھا "جنگی مجرم”۔
نیتن یاہو نے امریکہ میں جنگ کے مخا لف متعدد مظاہرین پر ان عسکریت پسندوں کا ساتھ دینے کاالزام لگایا جنہوں نے ان کے بقول، 7 اکتوبر کو حماس کے حملے میں ننھے بچوں کو ہلاک کیا تھا ۔ ” انہوں نے کہا کہ،’’یہ مظاہرین جو ان کے ساتھ کھڑے ہیں، انہیں خود پر شرم آنی چاہیے۔‘‘
اب جبکہ اسرائیل میں بھی نیتن یاہو کے خلاف تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے انکا یہ مقصد بھی ہے کہ وہ خود کو ایک ایسے سیاستدان کے طور پر پیش کریں جسے اسرائیل کے سب سے اہم اتحادی، امریکہ کا احترام حاصل ہے۔
ان کا کام اسرائیل اور جنگ کے بارے میں امریکیوں کےبڑھتے ہوئے منقسم خیالات کی وجہ سے پیچیدہ ہو گیا ہے، جو امریکی صدارتی انتخابات میں ایک اہم مسئلےکے طور پر سامنے آیا ہے۔