بلوچستان کے ساحلی شہر وسی پیک مرکزگوادرمیں 28 جولائی کو بی وائی سی کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی بلوچ راجی مچی ( بلوچ قومی اجتماع ) کو روکنے کیلئے ریاست کے اوچھے ہتھکنڈوں کا سلسلہ جاری ہے ۔
بلوچستان کے صنعتی شہر حب چوکی میں گذشتہ دنوں راجی مچی کی تیاری کے سلسلے میں شرکت پر لاپتہ افراد کے لواحقین اور بی وائی سی اور وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے رہنماؤں کے خلاف ایف آئی آر درج کیے گئے ہیں۔
ایف آئی آر لاپتہ ڈاکٹر دین محمد کی صاحبزادی سمی دین اور لاپتہ راشد حسین کی بھتیجی ماہ زیب سمیت دیگر افراد کے خلاف درج کرلی گئی ہے۔
پولیس کا موقف ہے مذکورہ افراد نے پاکستان کے نفرت انگیز تقریریں کی ہے جبکہ ریاست مخالف پمفلٹ تقسیم کئے ہیں اور وال چاکنگ کی گئی ہے۔
خیال رہے کہ بلوچ راجی مچی کیلئے بلوچستان بھر میں تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں۔ وہیں انتظامیہ کی جانب سے لوگوں کی گرفتاری و لاپتہ کرنے سمیت دیگر طریقوں سے ہراساں کرنے کی اطلاعات موصول ہورہے ہیں۔
دوسری جانب واشک سے اطلاعات ہیں کہ راجی مچی کیلئے چندہ کرنے والے لوگوں کو واشک پولیس نے گرفتار کرلیاہے۔
نوجوانوں کی گرفتاری کے خلاف واشک کی عوام اللہ اکبر چوک بلاک کرکے پولیس انتظامیہ کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔