خضدار میں لاپتہ افراد لواحقین کا دھرنا شاہراہ پرجاری ہے جبکہ تربت میںڈی سی آفس کے سامنے جاری دھرناکیمپ کو پولیس نے محاصرہ کرلیا ہے ۔
گریشہ خضدار سے جبری لاپتہ افراد کے لواحقین کا احتجاجی دھرنا چھٹی روز سے بھی جاری ہے اور شاہراہ مکمل بند ہے۔
واضح رہے کہ 18 جولائی کو گریشہ سے شاہ جان ولد سلیم، گوہر دین ولد ھیرجان، مہم جان ولد لال بخش، میار ولد لال بخش، محمد عارف ولد عبدالرحمن، منیر ولد سبزو سمیت متعدد لوگوں کو غیر قانونی طریقے سے حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا تھا جس کے خلاف لواحقین کا احتجاج جاری ہے۔
دوسری جانب ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت میں ڈپٹی کمشنر آفس کے باہر جاری لاپتہ افراد کے لواحقین کے دھرنے کو پولیس اور لیویز فورس نے گھیرے میں لے لیاہے اور رکاوٹیں ہٹانا شروع کر دی ہیں۔
خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مظاہرین پر کریک ڈاؤن کیا جائیگا۔
گذشتہ 9 روز سے جاری دھرنے پر بیٹھے مظاہرین نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے پیغام میں کہا ہے کہ پولیس اور لیویز کے اہلکار بھاری تعداد میں مظاہرین کو گھیرے میں لیکر ہراساں کر رہی ہیں، انہیں شبہ ہے کہ انہیں گرفتار کیا جائیگا اور تشدد بھی کیا جا سکتا ہے۔ اس ضمن میں مظاہرین نے سیاسی و سماجی حلقوں سے مدد کی اپیل کی ہے۔