ٹی ایل پی کے مطالبے پر پاکستان نے نیتن یاہو کو دہشت گرد قرار دیدیا

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

پاکستانی حکومت نے سخت گیر مذہبی ودائیں بازو کی جماعت ٹی ایل پی کے مظاہرین کے دباؤ میں آکر اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو جمعے کے روز ایک دہشت گرد قرار دیاہے۔

وزیر اعظم شہباز شریف کے سیاسی اور عوامی امور کے مشیر رانا ثناء اللہ کا یہ بیان ایک مذہبی سیاسی جماعت ،تحریک لبیک پاکستان یا ٹی ایل پی کے ساتھ دا رالحکومت کے باہر ایک اہم سڑک پر کئی روز سے جاری اس کے دھرنے کے خاتمے سے متعلق ایک معاہدے کا حصہ تھا۔

ٹی ایل پی کے ایک اہم مطالبے کو تسلیم کرتے ہوئے ثناء اللہ نے کہا، "نیتن یاہو ایک دہشت گرد اور جنگی جرائم کے مرتکب ہیں ۔” مشیر نے اسلام آباد میں ا ٹی ایل پی رہنماؤں اور وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے ساتھ ایک پریس کانفرنس میں یہ بات کہی ۔

تحریک لبیک پاکستان کے ہزاروں حامیوں نے غزہ میں اسرائیلی حملوں کی مذمت کے لیے گزشتہ ہفتے دارالحکومت کے قریب ایک ریلی نکالی۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ نیتن یاہو کو دہشت گرد قرار دیا جائے، اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جائے اور فلسطینیوں کو امداد بھیجی جائے۔

پاکستانی وزیر اعظم کے مشیر اعلیٰ نے جمعے کو کہا، ’’ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اُن (نیتن یاہو]) پر مقدمہ چلایا جائے۔‘‘ "ہم اس ظلم (غزہ میں اسرائیل کے اقدامات)، اسرائیل اور اس میں ملوث تمام طاقتوں کی دلی طور پر مذمت کرتے ہیں۔”

ریلی کے بعد، بہت سے لوگوں نے ایک مصروف انٹرچینج پر دھرنا جاری رکھا جو اسلام آباد کو پڑوسی گیریژن شہر راولپنڈی سے ملاتا ہے، جس سے شہریوں کو آمدو رفت میں سخت مشکلات کا سامنا ہوا ۔

انتہا پسند جماعت،ٹی ایل پی کی عوامی ایجی ٹیشن کے ذریعے حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کی ایک تاریخ ہے ۔ 2017 میں، اس کے ہزاروں حامیوں نے پارلیمانی ارکان کے حلف میں ایک ترمیم کے خلاف تقریباً تین ہفتے کا دھرنا دے کر دارالحکومت کو مفلوج کر کے رکھ دیا تھا۔

Share This Article
Leave a Comment