محکمہ پولیس بلوچستان نے 200 سے زائد پولیس اہلکاروں کو نوکریوں سے برخاست کردیاہے۔
محکمہ کی جانب سے دعویٰ کیا جارہا ہے کہ اہلکاروں کو لاپرواہی، غیر ذمہ داری اور مسلسل غیر حاضری پر نوکریوں سے برخاست کیاگیا ہے۔
فارغ کئے گئے اہلکاروں میں کانسٹیبل، ہیڈ کانسٹیبل اور اے ایس آئیز شامل ہیں ۔
جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق لورالائی، سبی، قلات، ژوب، نصیرآباد، مکران اور کوئٹہ کے اہلکار فارغ ہونے والوں میں شامل ہیں۔
سنگر کو حکومتی ذرائع سے ملنے والی ایک جانکاری کے مطابق بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کیخلاف اٹھنے والی عوامی ردعمل اور روڈ بلاک احتجاج سے پاکستانی فوج کو شدید دبائو کا سامنا ہے اور اس کے خاتمے کیلئے بلوچستان حکومت پر دبائوڈال رہی ہے کہ وہ اپنے انڈر پولیس ،لیویز و دیگر فورسز کو عوامی احتجاجوں کو روکنے کیلئے استعمال کر ے اور حکومت کی جانب سے پولیس، لیویز ودیگرفورسزکو ان عوامی احتجاجوں کوروکنے کیلئے سختی کے ساتھ ہدایات دی گئی ہیں لیکن بعض اہلکار ان پر امن خواتین وبچوں کے احتجاج کو بزور بندوق روکنے کے خلاف ہیں جس کے ردعمل میں انہیں نوکریوں سے فارغ کیا جارہاہے ۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ عسکری اسٹیبلشمنٹ و حکومت بلوچستان کی سخت ہدایت کے پیش نظر جو بھی اہلکار عوامی مظاہروں کو کچلنے میں پیش پیش نہیں ہوگا انہیں نوکریوں سے برخاست کیا جائے گا اورمجبوراً پولیس، لیویز ودیگرفورسزنہتے پرامن مظاہرین کو سبوتاژ کرنے کیلئے سیدھی فائرنگ و تشدد کا سہارا لے رہے ہیں تاکہ اپنی نوکریوں کو بچاسکیں۔