انسانی حقوق کے سرگرم ومتحرک کارکن اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے بنوں میں پر امن مارچ پر فائرنگ کے ردعمل میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک پوسٹ میں کہا ہے کہ بنوں میں دہشتگردی کے خلاف نکالی جانے والی ریلی پر حملہ پشتون نسل کشی کا تسلسل ہے جو گزشتہ کئی دہائیوں سے جاری ہے۔ عجیب ریاست ہے، لوگ امن مانگنے کے لیے سڑکوں پر نکلتے ہیں تو ریاست ان کا قتل عام کرتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہی صورتحال بلوچستان میں ہے۔ بلوچ نسل کشی کے خلاف بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچ قومی اجتماع کا انعقاد کرنے جارہی ہے، لیکن ریاست قومی اجتماع کو روکنے کے لیے اپنی تمام تر طاقت کا استعمال کررہی ہے اور انتہائی پرتشدد رویہ اختیار کیے ہوئے ہے۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کا کہنا تھا کہ یہ بلوچستان اور پختونخواہ کی صورتحال ہے، جہاں ہزاروں کی تعداد میں لوگ ریاستی ظلم اور جبر کے خلاف سڑکوں پر احتجاج کررہے ہیں۔ ریاست بلوچ اور پشتون نسل کشی ختم کرنے کے بجائے پرامن اجتماعوں پر حملے کررہی ہے، لیکن نام نہاد مین اسٹریم میڈیا، صحافی، اور سیاستدان مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ انہیں بھی ریاست کی طرح صرف بلوچستان اور پختونخواہ کے وسائل نظر آتے ہیں جبکہ ہونے والی ظلم اور بربریت پر اپنی آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں۔
انہوںنے کہا کہ میں بلوچ اور پشتون قوم سے اپیل کرتی ہوں کہ اپنے درمیان اتحاد اور یکجہتی پیدا کریں۔ ہم مشترکہ جدوجہد کے ذریعے اپنی سرزمین سے اس ظلم اور بربریت کا خاتمہ کریں گے۔