جرمنی نے 44 خطرے والے علاقوں کی فہرست شائع کر دی

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

اے ایف ڈی کی درخواست کے بعد جرمنی کی آبادی والی سب سے بڑی ریاست نے 44 نام نہاد ‘خطرے’ والے علاقوں کی فہرست شائع کر دی ہے۔ یہ پارٹی تارکین وطن کے علاقوں کو نشانہ بنانے کے لیے بار بار ایسی معلومات کا استعمال کرتی رہی ہے۔

عدالتی حکم کے بعد، جرمنی کی ریاست ، نارتھ رائن ویسٹ فیلیا (این آر ڈبلیو) کی حکومت نے تارکین وطن کی مخالف جماعت (اے ایف ڈی) کی جانب سے دی گئی ایک درخواست قبول کر لی ہے۔ اس میں ان اطراف اور گلیوں سے متعلق معلومات فراہم کرنے کی دورخواست کی گئی ہے جنہیں پچھلی دہائی کے دوران پولیس "خطرناک زون” قرار دے چکی ہے۔

اس فہرست میں 44 علاقوں کے نام ہیں، ان میں سے صرف دس ابھی تک حکام کے لیے خصوصی دلچسپی کا حامل رہے ہیں۔ اہم امر یہ ہے کہ اس فہرست میں شامل تقریبا تمام مقامات میں تارکین وطن کی آبادی زیادہ ہے۔

وزارت داخلہ کے ترجمان نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ "خطرناک” کی اصطلاح کا لازمی طور پر یہ مطلب نہیں ہے کہ کسی شخص کو کسی مخصوص جگہ پر زیادہ خطرہ لاحق ہے تاہم اس کا مطلب یہ ہے کہ پولیس بغیر کسی مخصوص وجہ کے ان علاقوں میں شناخت چیک کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا، "پولیس کو ‚خطرناک زون‘ کی نشاندہی کی اجازت ہے، بشرطیکہ, حقائق اس قیاس کا جواز پیش کرتے ہیں کہ ان مقامات پر کچھ جرائم پیشہ افراد کی طرف سے منصوبہ بندی کی جاتی ہے یا کوئی مجرم وہاں وقت گزارتا ہے۔

سیباستیان وائرمن ایک فری لانس صحافی ہیں۔ سن 2016 سے یہ جرمنی کی ریاست ، نارتھ رائن ویسٹ فیلیا (این آر ڈبلیو) کی سیاست پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ڈی ڈبلیو کو انٹرویو دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا، "اس کا مطلب یہ ہے کہ پولیس فیصلہ کرسکتی ہے اور خود ‘خطرناک زون’ کا تعین کر سکتی ہے۔ مثال کے طور پر، اگر وہ ایک رات کسی محلے میں منشیات کے کاروبار کا پتا لگا لے تو، وہ وہاں اس اصطلاح کو استعمال کرنا شروع کر سکتی ہے۔

18 ملین باشندوں کے ساتھ، این آر ڈبلیو نہ صرف جرمنی کی سب سے زیادہ آبادی والی ریاست ہے، بلکہ یہاں متعدد بڑے شہر ایسے، جہاں جرائم کی شرح زیادہ ہے۔ جبکہ اس فہرست میں ڈسلڈورف اور آخن جیسے انتہائی کم جرائم والے شہر بھی شامل ہیں۔ دوسری جانب منظم جرائم کے لئے مشہور دیگر مقامات میں ڈوئس برگ، مارکسلوہ شامل ہیں۔ سیباستیان وائرمن کا مشاہدہ یہ کہتا ہے کہ، کچھ جگہوں پر، جیسے کے "ڈیوس برگ کے کچھ حصے ‘ریاست کے خطرناک زون’ نہیں ہیں اس لیے کے پولیس یہاں اپنے ان اختیارات کا استعمال نہیں کرتی۔

چند مقامی اخباروں نے سڑکوں اور محلوں کو "خطرناک زون” قرار دینے جیسے نظریات اور حقیقت کے مابین تضاد کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کی وضاحت کرنے والے اصول پر سوال اٹھایا ہے۔ ایک مقامی اخبار نے لکھا "اس فہرست سے یہ بات واضح ہے کہ خطرناک زون کی پولیس کی تعریف مبہم ہے۔ مثال کے طور پر، مونشن گلاڈباخ میں فٹ بال اسٹیڈیم کے باہر خالی پارکنگ کو اس فہرست میں شامل کیا گیا ہے، شاید اس لیے کہ غنڈے کھیل کے بعد وہاں لڑتے جھگڑتے ہیں۔” سیباستیان وائرمن کا کہنا ہے،”اگر آپ کسی سرکاری تصور کے ساتھ کام کرنا چاہتے ہیں تو، آپ کو اس کی واضح تعریف کی ضرورت ہے۔”

TAGGED:
Share This Article
Leave a Comment