حماس کے پولیٹیکل بیورو کے ایک رکن نے جمعے کو کہا ہےکہ جنگ بندی مذاکرات کے دوران حماس کی تجویز ہے کہ جنگ کے بعد کےغزہ اور اسرائیل کے زیر قبضہ مغربی کنارے کا انتظام غیرجماعتی شخصیات پر مشتمل ایک آزاد حکومت چلائے۔
حسام بدران نے قطر، مصر اور امریکہ کی ثالثی میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری مذاکرات کے بارے میں ایک بیان میں کہا،” ہم نے تجویز پیش کی کہ جنگ کے بعدایک غیر جانبدار قومی حکومت غزہ اور مغربی کنارے کا انتظام چلائے۔”
بدران نے مزید کہا کہ "جنگ کے بعد،کسی بیرونی مداخلت کے بغیر غزہ کو چلانا فلسطینیوں کا اندرونی معاملہ ہے، اور ہم غزہ میں جنگ بندی کے اگلے دن کسی بیرونی فریق کے ساتھ بات چیت نہیں کریں گے۔”
حماس کے ایک اہلکار نے اے ایف پی کو بتایا کہ ایک غیر جماعتی حکومت کی تجویز "ثالثوں کے ساتھ” تیار کی گئی تھی۔
اہلکار نے، جو اپنا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتے کہا کہ یہ حکومت جنگ کے بعد ابتدائی مرحلے میں غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے کے امور کو سنبھالے گی، جس سے عام انتخابات کی راہ ہموار ہو گی۔
بدران کے یہ تبصرے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی جانب سے اس مطالبے کے بعد سامنے آئے ہیں کہ،مصر کی سرحد کے ساتھ واقع غزہ کے علاقے،فلاڈیلفی کوریڈور، پر اسرائیلی کنٹرول کو بر قرار رکھا جائے۔
یہ شرط حماس کے اس موقف سے متصادم ہے کہ اسرائیل کو جنگ بندی کے بعد غزہ کے تمام علاقوں سے دستبردار ہونا چاہیے۔
نیتن یاہو نے جمعرات کو کہا کہ فلاڈیلفی کوریڈور کا کنٹرول "مصر سے حماس کو اسمگل کیے جانے والے ہتھیاروں” کو روکنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
یہ مذاکرات مصر میں ہو رہے ہیں جن کا مقصد غزہ میں جنگ بندی کے ساتھ ساتھ حماس کے پاس اب تک قید یرغمالوں کی واپسی ہے۔