بلوچ یکجہتی کمیٹی کے آرگنائزر اور سرگرم و متحرک انسانی حقوق کارکن ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک پوسٹ میں کوئٹہ میں فورسز ہاتھوں گرفتارنہتے و پر امن خواتین و نوجوان مظاہرین کی عدم رہائی پر ریاست پاکستان اور حکومت بلوچستان کو الٹی میٹم دیتے ہوئے کہاکہ ہم ریاست اور حکومت بلوچستان کو آدھے گھنٹے کا وقت دیتے ہیں اگر آدھے گھنٹے کے اندر بلوچ خواتین اور نوجوانوں کو رہا نہیں کیا گیا تو ہم سریاب سے کوئٹہ ریڈ زون تک مارچ کریں گے اور ریڈ زون کے سامنے غیر معینہ مدت کے لیے دھرنا دیں گے۔
انہوںنے کہا کہ ہم ریاست اور حکومت بلوچستان کو آدھے گھنٹے کا وقت دیتے ہیں اگر آدھے گھنٹے کے اندر بلوچ خواتین اور نوجوانوں کو رہا نہیں کیا گیا تو ہم سریاب سے کوئٹہ ریڈ زون تک مارچ کریں گے اور ریڈ زون کے سامنے غیر معینہ مدت کے لیے دھرنا دیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ جبکہ ہم یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ ہم تشدد اور گرفتاریوں سے کسی صورت نہیں ڈریںگے بلکہ ان کے ردعمل میں ہماری جدوجہد زیادہ شدت کے ساتھ ابھرے گی۔
انہوںنے کوئٹہ کے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ جلد از جلد سریاب دھرنے میں پہنچ جائے۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت متعدد بلوچ خواتین سول لائن تھانے میں قید ہیں۔ جن میں کئی خواتین کی طبیعت تشدد اور لاٹھی کی وجہ سے بہت خراب ہے لیکن کوئٹہ پولیس اپنی فسطائیت کی تمام حدوں کو پار کررہی ہے، نہ ان خواتین سے ہمیں ملنے کی اجازت دی جارہی ہے اور نہ ہی خواتین کو علاج کے لیے ہسپتال منتقل کررہی ہے۔ اور اب اطلاعات آرہی ہیں کہ ان خواتین کو کینٹ تھانے میں منتقل کررہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس ریاست، بلوچستان حکومت اور کوئٹہ پولیس کی زرا برابر بھی اندازہ نہیں ہے کہ وہ کیا کررہے ہیں۔ بلوچ سماج میں خواتین کے ساتھ اس طرح سے پیش آنے سے آگے جو بھی نتائج آئے اس کی تمام ذمہ دادی ریاست پر عائد ہوگی۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے میںایک بار پھر کوئٹہ کے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی بہنوں کی حفاظت کے لئے اس جدوجہد کا ساتھ دیں ، سریاب روڈ دھرنے میں شامل ہوں، اگر خواتین سمیت تمام مظاہرین رہا نہیں کیا گیا تو دھرنا ریڈ زون کے سامنے دیا جائے گا۔