بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں مظاہرین پر لاٹھی چارج و شیلنگ کیخلاف سریاب میں مکمل شٹرڈاؤن ہے ۔
نہتے اور پر امن احتجاج پر فورسز گردی کے ردعمل میںدکان اور کاروباری مراکزکو بند کردیا گیا ہے ۔
جبکہ مظاہرے کے دوران گرفتار خواتین نے پولیس وین میں مطالبات کی منظور تک تادم مرگ بھوک ہڑتال کردی ہے۔
اطلاعات ہیں کہ گرفتار خواتین میں بیبو بلوچ، فوزیہ اور دیگر شامل ہیں نے پولیس وین کے اندر بھوک ہڑتال شروع کردی ہے جبکہ مذکورہ افراد کے ہمراہ ایک خاتون بے ہوش ہوگئی۔
گرفتار خواتین کا کہنا ہے کہ مطالبات کی منظور تک ہماری تادم مرگ بھوک ہڑتال جاری رہے گی۔
مظاہرین نے ظہیر بلوچ کی بازیابی، تمام گرفتار مظاہرین کی رہائی اور مذکورہ خواتین سے چھینے گئے موبائلز کی واپسی کے مطالبات شامل ہیں۔
یاد رہے کہ ظہیر بلوچ سمیت دیگر بلوچ لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے نکالی گئی ریلی کے شرکاءپر فورسز کی جانب سے لاٹھی چارج،آنسو گیس شیلنگ کے استعمال سے خواتین و بچوں سمیت متعدد افراد زخمی ہو گئے ۔
پولیس نے بلوچ یکجہتی کمیٹی ، وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز سمیت احتجاج میں شریک کئی مظاہرین کو گرفتار بھی کر لیاہے جبکہ بعض گرفتارنوجوانوں کے بارے میں کہا جارہا ہے کہان کا کئی خبر نہیں ہے کہ انہیں کس تھانے میں رکھاہے ۔