بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں لاپتہ ظہیر بلوچ کی بازیابی کیلئے جاری پر امن ریلی کے شرکاپر پولیس تشدد و گرفتاریوں کے ردعمل پر وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے سیکر ٹری جنرل اور سرگر م انسانی حقوق کارکن سمی دین بلوچ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک پوسٹ میں کہا ہے کہ آج، ایک بار پھر، ریاستی حکام نے پرامن احتجاج کو منتشر کرنے اور اختلافی آوازوں کو خاموش کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ رواں ماہ 24 جون کو جبری طور پر لاپتہ ہونے والے ظہیر بلوچ کے اہل خانہ کی جانب سے آج بلوچستان کے شہر کوئٹہ میں ایک ریلی نکالی جا رہی تھی۔ریلی میں خواتین اور بچوں سمیت شرکاء کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور کوئٹہ پولیس نے متعدد کو گرفتار کر لیا۔
سمی بلوچ کا کہنا تھا کہ ظہیر بلوچ کے اہل خانہ گزشتہ دس روز سے سراپا احتجاج ہیں لیکن حکومت نے ان کے مطالبات پر غور نہیں کیا۔ اور آج، ایک بار پھر، ریاستی حکام نے پرامن احتجاج کو منتشر کرنے اور اختلافی آوازوں کو خاموش کرنے کے لیے طاقت کا وہی طریقہ استعمال کیا۔
انہوںنے تمام لوگوں سے گزارش کی ہے وہ کہ اس غیر قانونی فعل کے خلاف اپنی آواز بلند کریں۔