کوئٹہ میں پر امن ریلی کو منتشر کرنے کیلئے طاقت کا استعمال کیاگیا،سمی بلوچ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں لاپتہ ظہیر بلوچ کی بازیابی کیلئے جاری پر امن ریلی کے شرکاپر پولیس تشدد و گرفتاریوں کے ردعمل پر وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے سیکر ٹری جنرل اور سرگر م انسانی حقوق کارکن سمی دین بلوچ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک پوسٹ میں کہا ہے کہ آج، ایک بار پھر، ریاستی حکام نے پرامن احتجاج کو منتشر کرنے اور اختلافی آوازوں کو خاموش کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ رواں ماہ 24 جون کو جبری طور پر لاپتہ ہونے والے ظہیر بلوچ کے اہل خانہ کی جانب سے آج بلوچستان کے شہر کوئٹہ میں ایک ریلی نکالی جا رہی تھی۔ریلی میں خواتین اور بچوں سمیت شرکاء کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور کوئٹہ پولیس نے متعدد کو گرفتار کر لیا۔

https://twitter.com/SammiBaluch/status/1811322144925548604

سمی بلوچ کا کہنا تھا کہ ظہیر بلوچ کے اہل خانہ گزشتہ دس روز سے سراپا احتجاج ہیں لیکن حکومت نے ان کے مطالبات پر غور نہیں کیا۔ اور آج، ایک بار پھر، ریاستی حکام نے پرامن احتجاج کو منتشر کرنے اور اختلافی آوازوں کو خاموش کرنے کے لیے طاقت کا وہی طریقہ استعمال کیا۔

انہوںنے تمام لوگوں سے گزارش کی ہے وہ کہ اس غیر قانونی فعل کے خلاف اپنی آواز بلند کریں۔

Share This Article
Leave a Comment