ریاست کو اس بات پر مکمل ایمان ہے کہ ہر مسئلے کا حل تشدد ہے، ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں لاپتہ ظہیر بلوچ کی بازیابی کیلئے جاری پر امن ریلی کے شرکاپر فورسز کا حملہ و خواتین وبچوں کوتشددکا نشانہ بنانے سمیت کئی شرکاکی گرفتاری کے ردعمل پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک پوسٹ میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے آرگنائزراور سرگرم و متحرک انسانی حقوق کارکن ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے کہا ہے کہ ظہیر بلوچ کی اہل خانہ کی جانب سے اس کے بازیابی کے لئے گذشتہ 11 دن سے سریاب روڈ کوئٹہ میں دھرنا جاری ہے۔ آج ایک ریلی نکالی گئی مگر کوئٹہ پولیس کے جانب سے میں پر امن مظاہرین، عورتوں اور بچوں پر تشدد کیا گیا، اور پر امن مظاہرین کو گرفتار کیا گیا ۔

https://twitter.com/MahrangBaloch_/status/1811298361338695753

انہوںنے کہا کہ یہ ریاست اس بات پر مکمل ایمان رکھتی ہے کہ ہر مسئلے کا حل تشدد ہے، پہلے اپنے ہی آئین و قانون کو پاؤں تلے روند کر شہریوں کو جبری طور پر گمشدہ کرتی ہے جبکہ ان کے اہل خانہ ان غیر آئینی و غیر قانونی اقدامات کے خلاف پرامن طور پر احتجاج کرتے ہیں، آواز اٹھاتے ہے تو ریاست ڈائیلاگ کرنے اور مسئلے کو حل کرنے کے بجائے خواتین اور بچوں پر بدترین تشدد کرتی ہے، انہیں گرفتار کرتی ہے۔ اگر یہ ریاست سمجھتی ہے کہ وہ جبر اور بربریت سے عوامی آواز کو دبا سکتی ہے تو وہ تاریخ کے انتہائی غلط مقام پر کھڑی ہے۔

ڈاکٹرماہ رنگ بلوچ نے بلوچ قوم سمیت تمام لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ظہیر بلوچ کے اہل خانہ اور عام مظاہرین پر اس تشدد اور گرفتاریوں کے خلاف بھر پور آواز اٹھائیں اور ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہوجائیں۔

Share This Article
Leave a Comment