اسرائیل نے جنوبی غزہ خان یونس میں ڈھائی لاکھ فلسطینیوں کو انخلا کا حکم دینے کے بعد شدید بمباری کا آغاز کردیا ہے۔
اب تک کی گولہ باری سے 8 فلسطینی ہلاک اور 30 سے زائد زخمی ہو گئے۔
عینی شاہدین نے جنوبی غزہ کے مرکزی شہر خان یونس کے ارد گرد اسرائیل کی طرف سے شدید بمباری اور گولہ باری کی اطلاع دی ہے۔
اسرائیلی فوجیوں نے مہینوں کی شدید لڑائی کے بعد اپریل کے اوائل میں ہی ان علاقوں سے اپنا انخلا کیا تھا۔
نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق شہر کے ایک ہسپتال کے ذرائع نے بتایا کہ گولہ باری سے 8 افراد ہلاک اور 30 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔
جنوبی غزہ پر بمباری سے قبل اسرائیلی فورسز نے خان یونس کے مشرق اور مصر کی سرحد کے ساتھ رفح کے علاقے سے تمام فلسطینیوں کو انخلا کا حکم دیا تھا۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ کچھ بے گھر فلسطینی سڑکوں کے کناروں پر سو رہے تھے۔
فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کی امدادی ایجنسی یو این آر ڈبلیو اے کا اندازہ ہے کہ انخلا کے اسرائیلی احکامات سے تقریباً 250,000 افراد متاثر ہوئے ہیں۔
اقوام متحدہ نے منگل کے روز جنوبی غزہ کی پٹی کے ایک بڑے حصے کے لیے اسرائیل کے انخلاء کے حکم پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے لاکھوں شہری متاثر ہوئے ہیں۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے صحافیوں کو بتایا۔”خان یونس اور رفح میں 117 مربع کلومیٹر کے علاقے کو خالی کرنے کا کل دیا گیا حکم، غزہ کی پٹی کے تقریباً ایک تہائی حصے پر لاگو ہوتا ہے۔ یہ اکتوبر کے بعد سے، جب فلسطینیوں کو شمالی غزہ سے انخلاء کا حکم دیا گیا تھا اس طرح کے سب سے بڑے احکامات ہیں۔”
فلسطینی پناہ گزینوں کی مدد کرنے والی اقوام متحدہ کی ایجنسی، UNRWA کا اندازہ ہے کہ اس حکم کے جاری ہونے کے وقت تقریباً ڈھائی لاکھ فلسطینی ان علاقوں میں مقیم ہو سکتے ہیں۔
دجارک نے کہا کہ ان علاقوں کے لوگوں کے پاس دوبارہ منتقل ہونے کا "ناممکن انتخاب” رہ گیا ہے، یعنی وہ ایسے علاقوں میں جائیں جہاں بمشکل کوئی جگہ یا سہولتیں موجود ہیں، یا وہیں مقیم رہیں جہاں وہ جانتے ہیں کہ لڑائی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ انخلاء کا نیا حکم 90 سے زائد ایسےاسکولوں کے علاقے پر محیط ہے، جن میں زیادہ تر بے گھر افراد کی رہائش ہے اور اس کے ساتھ ساتھ وہاں چار میڈیکل پوائنٹس ہیں۔