خاران : عبدالباسط مینگل قتل کیس میں انتظامیہ کی عدم تعاون کیخلاف لواحقین کی پریس کانفرنس

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read

بلوچستان کے علاقے پنجگور میں گزشتہ دنوں خاران کے رہائشی عبدالباسط مینگل کے گھر میں گھس کر انہیں قتل کرنے اور بیوی کو زخمی کرنے اور پولیس اور ڈی سی کی جانب سے عدم تعاون کیخلاف اُنکے لواحقین سرفراز تگاپی عطاء اللہ مینگل نظر مینگل اور بلوچ وومن فورم کے عقیدہ بلوچ اور آلیہ بلوچ نے خاران پریس کلب میں سول سوسائٹی کے رہنمائوں کے ہمراہ اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ عبدالباسط مینگل قتل کیس میں پولیس اور ڈی سی کسی قسم کی کوئی تعاون نہیں کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ عبدالباسط مینگل قتل کیس کا ہماری جانب سے باقاعدہ ایف آئی آر سٹی پولیس تھانہ پنجگور میں درج کی گئی ہے اور ہماری نشان دہی پر پنجگور پولیس نے 5 قاتل بھی گرفتار کرلیے ہیں جن میں دو مرکزی مجرمان میں سے ایک کا جائے وقوع پر موجودگی کے چشم دید گواہ جبکہ دوسرے کا سی سی ٹی وی فوٹیج میں بندوق کے ساتھ صاف تصاویر اور ویڈیو موجود ہے عبدالباسط مینگل کے چوری شدہ موباہل کا لوکیشن گرفتار مجرم مجاز کے بیٹے کی چوکیداری کی جگہ نشاندہی کررہاہے جو کہ پنجگور پی ٹی سی ایل کا چوکیدار ہے موباہل کا لوکیشن سانحہ کے دوسرے دن نو بجے تک اس کی چوکیداری والے ایریا میں ظاہر کررہا تھامگر پنجگور پولیس نے ابھی تک نہ اسے گرفتار کیا ہے نہ ہی شہید کا موبائل برآمد کیا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ تمام تر ثبوتوں اور چشم دید گواہوں کے بیانات کے باوجود ضلعی انتظامیہ پنجگور اور پنجگور پولیس کیس میں پیشرفت کرنے سے قاصر ہیں اور کیس کے متعلق نہ ہمارے ساتھ تعاون کررہا ہے نہ گرفتار قاتلوں کے بارے میں اپنا موقف پیش کررہا ہے حتیٰ کہ ہمیں مصدقہ ذرائع سے معلوم ہوا کہ کہ تمام گرفتار قاتلوں کو پنجگور پولیس رات کو حوالات سے نکال کر ان کو انکے گھر بھیجتا ہے اور صبح واپس لاک اپ میں بند کرتا ہے۔

پریس کانفرنس کرتے ہوئے مقتول عبدالباسط مینگل کے لواحقین کا کہنا تھا کہ ڈپٹی کمشنر پنجگور اور ایس پی پنجگور کا قاتلوں کو بچانے کا اس سے زیادہ کیا ثبوت چاہیے کہ 10 دن گزرنے کے باوجود ہمیں ایف آئی آر کی کاپی تک نہیں دی جارہی ہے ضلعی انتظامیہ پنجگور اور پنجگور پولیس کی جانب سے غیرسنجیدگی اور گرفتار قاتلوں کے ساتھ جانبداری ، نرم رویہ اختیار کرنے پر ہمیں خدشہ ہے کہ سیاسی پریشر کی وجہ سے ضلعی انتظامیہ پنجگور اور پنجگور پولیس حسب ضابطہ قانونی کاروائی سے گریزاں ہیں جس پر ہم آج کے پریس کانفرنس کے توسط وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی، ایم پی اے خاران و وزیر خزانہ و معدنیات شعیب نوشیروانی چیف سیکرٹری بلوچستان ، آئی جی پولیس بلوچستان ، کمشنر مکران ڈویژن اور ڈی آئی جی مکران سمیت تمام متعلقہ اداروں سے اپیل کرتے ہیں کہ پنجگور میں عبدالباسط مینگل کا بیدردی کے ساتھ قتل اور اس کے اہلیہ کو زخمی کرنے والے ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے ضلعی انتظامیہ پنجگور اور پنجگور پولیس کو حسب ضابطہ قانونی کاروائی کرنے کے لیے پابند کریں۔

انہوں نے ڈپٹی کمشنر پنجگور اور ڈی پی او پنجگور کو ایک ہفتے کا الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا کہ عبدالباسط مینگل قتل کیس میں گرفتار قاتلوں کے سروں سے اپنا دست شفقت اٹھا کر پیشہ ورانہ تفتیش کے ذریعے تمام تر ثبوتوں اور گواہوں کے ذریعے کیس میں پیش رفت کرکے ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کرکے قرار واقعی سزا دی جائے۔

انہوں نے مزید کہاکہ اگر ایک ہفتے کے اندر ہمارے مطالبات پر ڈپٹی کمشنر پنجگور اور ڈی پی او پنجگور نے عملدرآمد نہیں کیا تو سول سوسائٹی خاران اور آل پارٹیز خاران کے تعاون سے ہمارا احتجاج مرحلہ وار سخت سے سخت ہوگا۔

Share This Article
Leave a Comment