سکھ علیحدگی پسند کے قتل کی سازش میں ملوث بھارتی شخص امریکہ کے حوالے

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

سکھ علیحدگی پسند لیڈر گرپتونت سنگھ پنوں جسے قتل کرانے کی سازش کا الزام بھارتی حکومت کی ایجنسیوں پر لگایا گیا ہے۔ اس سلسلے میں کرائے کے قاتل نگھل گپتا کو چیک ری پبلک سے گرفتار کر کے امریکہ کے کردیا گیا۔

چیک ری پبلک کے وزیر انصاف نے پیر کو کہا ہے کہ ایک بھارتی شہری کو امریکہ کے حوالے کر دیا گیا ہے جس پر امریکہ میں ایک سکھ علیحدگی پسند کو قتل کرنے کی ناکام سازش میں ملوث ہونے کے شبہ ہے۔

نکھل گپتا پر امریکہ کے وفاقی پراسیکیوٹرز نے الزام لگایا ہےکہ اس نے ایک بھارتی سرکاری عہدے دار کے ساتھ مل کر امریکہ میں رہائش پذیر گرپتونت سنگھ پنوں کو قتل کرنے کی ناکام سازش کی تھی، جو شمالی بھارت میں سکھوں کی ایک آزاد ریاست کا حامی ہے۔

گپتا نے گزشتہ جون میں بھارت سے پراگ کا سفر کیا تھا، جہاں اسے چیک حکام نے گرفتار کر لیا تھا۔ گزشتہ ماہ، چیک کی ایک عدالت نے امریکہ بھیجے جانے سے روکنے سے متعلق گپتا کی درخواست مسترد کر دی تھی، جس کے بعد چیک ری پبلک کے وزیر انصاف کے لیے اس کو امریکہ کی تحویل میں دینے کا راستہ صاف ہو گیا تھا۔

چیک ری پبلک کے وزیر انصاف پاول بلازک نے مختصر پیغام رسانی کے پلیٹ فارم ایکس پر لکھا ہے کہ میرے 3 جون کے فیصلے کی بنیاد پر ایک بھارتی شہری نکھل گپتا کو، جس پر رقم کے عوض قتل کرنے کی سازش کا شبہ ہے، فوجداری مقدمہ چلانے کے لیے، 14 جون کو امریکہ کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

قیدیوں سے متعلق بیورو کی ویب سائٹ پر قیدی کا نام تلاش کرنے سے اتوار کے روز یہ ظاہر ہوا کہ 52 سالہ گپتا کو نیویارک کے میٹرو پولیٹن حراستی مرکز بروکلین میں رکھا گیا ہے۔ یہ وفاق کے زیر انتظام ایک حراستی مرکز ہے۔

امریکہ کے محکمہ انصاف کے ایک ترجمان نے اس بارے میں تبصرے سے انکار کر دیا ہے۔ امریکہ میں موجود گپتا کے وکیل جیفری چیبرو نے بھی فوری طور پر اس پر تبصرہ نہیں کیا۔

Share This Article
Leave a Comment