یوکرین میں قیام امن کے لیے سوئٹزرلینڈ میں 2 روزہ سربراہی کانفرنس

0
34
فوٹو : اے ایف پی

روسی صدر کی طرف سے کییف سے اس مطالبے کے بعد کہ اگر وہ ماسکو کے ساتھ امن مذاکرات چاہتا ہے تو ہتھیار ڈال دے، یوکرین میں قیام امن سے متعلق پہلی سربراہی کانفرنس کے لیے عالمی رہنما آج ہفتے کے روز سوئٹزر لینڈ پہنچ رہے ہیں۔

بیرگن اسٹاک نامی لگژری سوئس سیاحتی مقام پر ہونے والے اس دو روزہ اجلاس میں یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی کے علاوہ 50 سے زائد دیگر سربراہان مملکت و حکومت شریک ہو رہے ہیں، تاہم روس ان میں شامل نہیں ہے۔

سوئٹزرلینڈ کا کہنا ہے کہ اس اجلاس کا مقصد قیام امن کے لیے ایسی حتمی کوشش کا راستہ ہموار کرنا ہے جس میں ماسکو بھی شامل ہو۔ تاہم روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے جمعے کے روز اس سربراہی اجلاس کو سب کا دھیان بھٹکانے کی ایک چال‘ قرار دیا۔

روسی صدر کا مزید کہنا تھا کہ اگر کییف یوکرین کے مشرقی اور جنوبی محاذوں سے اپنی فوجوں کو واپس بلا لیتا ہے اور نیٹو کی رکنیت کی کوشش ترک کر دیتا ہے تو ماسکو فوری طور پر جنگ روک دے گا اور امن مذاکرات شروع کرے گا۔

ماسکو نے فروری 2022 میں یوکرین پر بڑے حملے کا آغاز کیا تھا۔

یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے پوٹن کے ان مطالبات کو نازی جرمنی کے آمر اڈولف ہٹلر کی یاد دلانے والا علاقائی الٹی میٹم‘ قرار دیا، جبکہ نیٹو اور امریکہ نے بھی فوری طور پر ان سخت شرائط کو مسترد کردیا۔

تقریباًایک برس تک جاری رہنے والی جدوجہد کے بعد، یوکرین کو حالیہ مہینوں میں درجنوں سرحدی آبادیوں سے پسپائی اختیار کرنا پڑی، جس کی بڑی وجہ روسی فوجیوں کو افرادی قوت اور وسائل میں حاصل نمایاں برتری تھی۔

لیکن مئی کے وسط سے روس کی پیش رفت سست روی کا شکار ہے اور زیلنسکی کو امید ہے کہ وہ جی سیون اور امن اجلاسوں میں متوقع حمایت کے ذریعے روس کو پیچھے دھکیل سکیں گے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here