اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے منگل کو کہا کہ غزہ میں چار یرغمالوں کی رہائی کے لیے کیے گئے اسرائیلی آپریشن کے دوران شہریوں کی ہلاکتیں اور حماس کا گنجان آباد علاقوں میں یرغمالوں کو رکھنا جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتا ہے۔
اسرائیل نے کہا ہے کہ فضائی حملے کے ساتھ کی گئی یہ کارروائی، ہفتے کے روز وسطی غزہ کے علاقے نصیرات کے ایک رہائشی محلے کے مرکز میں ہوئی جہاں حماس نے یرغمالوں کو دو الگ الگ اپارٹمنٹ بلاکس میں رکھا ہوا تھا۔
غزہ کے محکمہ صحت کے حکام کے مطابق اس آپریشن میں 270 سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہوئے۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کے ترجمان جیریمی لارنس نے کہا کہ "اس طرح کے گنجان آباد علاقے میں جس طرح چھاپہ مارا گیا، اس سے سنجیدگی سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا اسرائیلی فورسز نے جنگی قوانین کے تحت طے کیے گئے، فرق، تناسب اور احتیاط کے اصولوں کا احترام کیا تھا۔”
لارنس نے مزید کہا کہ فلسطینی مسلح گروپس کی طرف سے ایسے گنجان آباد علاقوں میں یرغمالوں کو رکھنا "فلسطینی شہریوں کے ساتھ ساتھ خود یرغمالوں کی زندگیوں کو بھی جنگ کے اضافی خطرے میں ڈالنے کے مترادف تھا ۔”
انہوں نے کہا کہ دونوں فریقوں کی طرف سے یہ تمام کارروائیاں جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتی ہیں۔