سراج الدین حقانی سمیت4 افغان عہدیداروں پر سفر کی پابندیاں ختم

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read
فوٹو: اے ایف پی متحدہ عرب امارات کے سربراہ شیخ محمد سراج الدین حقانی سے مصافحہ کر رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے افغانستان میں عبوری انتظامیہ کی چار طالبان رہنماؤں پر عائد سفرکرنے کی پابندیاں ہٹا دی ہیں۔

سلامتی کونسل کے مختصر نوٹیفکیشن کے مطابق افغانستان میں عبوری انتظامیہ کے اعلیٰ عہدے دار، عبدالکبیر محمد جان، عبدالحق واثق، نور محمد ثاقب اور سراج الدین جلال الدین حقانی پر عائد سفری پابندیاں ہٹانے کی منظوری دی گئی۔

اگست 2021 میں اقتدار پر طالبان کے قبضے کے بعد سے، عبدالکبیر محمد جان کو سیاسی امور کے لیے نائب وزیر اعظم مقرر کیا گیا تھا، جب کہ سراج الدین حقانی عبوری انتظامیہ میں وزیر داخلہ ہیں۔ عبدالحق واثق افغانستان کے انٹیلیجنس چیف ہیں جبکہ محمد ثاقب وزیر حج و مذہبی امور ہیں۔

سفری پابندیاں اٹھانے کا نوٹیفکیشن اس وقت سامنے آیا ہےجب حقانی نے، جو دہشت گردی کے لیے امریکہ کو مطلوب ہیں، اسی ہفتے متحدہ عرب امارات کا اپنا دورہ مکمل کیا تھا، جہاں انہوں نے میزبان ملک کی قیادت سے ملاقاتیں کی تھیں۔ اور واثق متحدہ عرب امارات (یو اے ای) گئے جہاں انہوں نے خلیجی ممالک کی قیادت سے ملاقات کی تھی۔

حقانی اور ان کے وفد نے ابوظہبی میں متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زاید النہیان سے ملاقات کی جہاں انہوں نے متحدہ عرب امارات میں افغان قیدیوں کی رہائی پر تبادلہ خیال کیا اور افغان شہریوں کو متحدہ عرب امارات میں ویزوں کی سہولت کی فراہمی کے لئے بھی کوشش کی۔

طالبان حکومت کے اعلیٰ ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے نے کہا کہ طالبان کے محکمہ سراغرسانی کے سربراہ عبدالحق واثق بات چیت میں حقانی کے ساتھ تھے۔

تقریباً تین سال قبل طالبان کی جانب سے افغانستان میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے سراج الدین حقانی کا یہ پہلا غیر ملکی دورہ تھا۔ امریکی محکمہ خارجہ کا “ ریوارڈ فار جسٹس “ پروگرام ،جس کا مقصد عالمی دہشت گردی کے خلاف لڑنا ہے، حقانی کے بارے میں ایسی کسی بھی اطلاع کے لیے ایک کروڑ ڈالر انعام کی پیشکش کرتا ہے، جس کے نتیجے میں انہیں گرفتار کیا جا سکے۔

متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زید النیہان نے امارات کے دارالحکومت ابو ظہبی میں منگل کے روز ان سے ملاقات کی تھی، جس میں اطلاعات کے مطابق فریقین نے دونوں ملکوں کے درمیان رابطوں اور تعاون کو مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا۔

امریکہ کی جانب سے حقانی کے دورے اور متحدہ امارات کے صدر سے ملاقات پر فوری طور سے کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا۔

Share This Article
Leave a Comment