امریکی صدر کا عالمی ادارہ صحت سے تعلق ختم کرنیکا اعلان

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

گذشتہ ماہ عالمی ادارہ صحت پر صدر ٹرمپ کی تنقید کا آغاز ا±س وقت ہوا تھا جب انھوں نے دھمکی دی تھی کہ اگر ’اگلے ایک ماہ میں عالمی ادارہ صحت میں اہم اصلاحات کا اعلان نہ کیا‘ تو وہ ادارے کو امریکہ کی جانب سے دی جانے والی فنڈنگ کو مستقل طور پر روک دیں گے۔

18 مئی کو عالمی ادارہ صحت کے سربراہ کو لکھے گئے ایک خط میں صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ’اب یہ واضح ہو چکا ہے کہ وبا کے ردعمل میں آپ کی تنظیم کی جانب سے دہرائی جانے والی غلطیوں کا بھاری ازالہ پوری دنیا کو ادا کرنا پڑا ہے۔‘

انھوں نے کہا تھا کہ اب صرف اسی صورت میں آگے بڑھا جا سکتا ہے اگر عالمی ادارہ صحت اس بات کا واضح اظہار کرے کہ وہ چین کے دباو¿ سے مکمل طور پر آزاد ہے۔

آج وائٹ ہاو¿س میں خطاب کے دوران صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’چین کا عالمی ادارہ صحت پر مکمل کنٹرول ہے‘ اور یہ سب اس کے باوجود ہے کہ ادارے کو ملنے والی امداد کا ایک حصہ امریکہ دیتا ہے۔

یاد رہے کہ چین پہلے ہی امریکہ کو اپنی (امریکی) سرزمین پر وائرس پھیلانے کا ذمہ دار قرار دے چکا ہے۔ چین نے کہا تھا کہ امریکہ میں وبا پھیلنے کے ذمہ دار وہ سیاست دان ہیں جو امریکی عوام سے ’جھوٹ‘ بولتے ہیں۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’ہم آج سے عالمی ادارہ صحت سے تعلق ختم کر رہے ہیں۔‘

صدر ٹرمپ کا وائٹ ہاو¿س میں خطاب فی الوقت جاری ہے جہاں وہ ان تمام امریکی اقدامات کی بابت ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو آگاہ کر رہیں جن کا مقصد چین کو سزا دینا ہے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ نہ صرف عالمی ادارہ صحت سے تعلقات ختم کر رہے ہیں بلکہ امریکہ کی جانب سے ادارے کے لیے مختص فنڈز کا رخ بھی صحت سے متعلق دیگر عالمی خیراتی اداروں کی جانب موڑ دیا جائے گا۔

انھوں نے کہا ’چینی حکومت کے بدنیتی پر مبنی اقدامات کی وجہ سے دنیا پریشانی کا شکار ہے۔ چین نے ایک ایسی بیماری کو بڑھنے دیا جس کی قیمت ایک لاکھ سے زائد امریکیوں نے اپنی جانوں کی شکل میں دی ہے۔‘

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ چین نے عالمی ادارہ صحت پر دبائو ڈالا کہ وہ اس وبا کے بارے میں دنیا کو گمراہ کریں۔

انھوں نے کہا کہ اس وبا کی وجہ سے بے تحاشہ جانی نقصان ہوا ہے جبکہ پوری دنیا کو معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔

Share This Article
Leave a Comment