یورپی ملک سلووینیا نے بھی فلسطین کو آزاد ریاست تسلیم کرلیاہے۔
سلووینیا کی حکومت نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی ایک تجویز کو گزشتہ ہفتے منظوری دے دی تھی اور اس کی حتمی منظوری کے لیے پارلیمنٹ میں پیش کیا تھا۔ 90 رکنی پارلیمنٹ میں 4 جون کو ووٹنگ کے دوران 52 اراکین نے اس بل کے حق میں ووٹ دیا، کسی نے اس کی مخالفت نہیں کی جبکہ بقیہ اراکین غیر حاضر رہے۔
سلووینیا حکومت کا کہنا تھا کہ دو ریاستوں کا قیام ہی مشرق وسطیٰ میں امن لاسکتا ہے۔
اس سے قبل یورپی ممالک اسپین، ناروے اور آئرلینڈ فلسطین کو ایک آزاد ریاست کے طورپر تسلیم کرچکے ہیں۔
سلووینیا کی پارلیمان نے چار جون کو اکثریتی ووٹ کے ساتھ فلسطین کو آزاد ریاست تسلیم کرنے کے بل کو منظوری دے دی۔
وزیر اعظم روبرٹ گولوب نے سلووینیا کے دارالحکومت لوبیانا میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سلوونیا کی حکومت نے آج فلسطین کو ایک آزاد اور خودمختار ریاست تسلیم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دو ریاستوں کا قیام ہی مشرق وسطیٰ میں امن لاسکتا ہے۔
پارلیمنٹ سے بل کی منظوری کے بعد سلووینیا کی وزیر خارجہ تنجا فاجون نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا، "فلسطین کے عزیز عوام، آج سلووینیا کا حتمی فیصلہ امید اور امن کا ایک پیغام ہے۔ ہمارا یقین ہے کہ صرف دو ریاستی حل ہی مشرق وسطیٰ میں دیر پاامن لاسکتا ہے۔ سلوونیا دونوں ریاستوں فلسطین اور اسرائیل کی سلامتی کے لیے اپنی انتھک کوششیں جاری رکھے گا۔”
خیال رہے کہ سلووینیا کی جانب سے فلسطین کو آزاد ریاست تسلیم کیے جانے سے کچھ دنوں قبل 28 مئی کو تین دیگر یورپی ممالک اسپین، ناروے اور آئرلینڈ بھی فلسطین کو ایک آزاد ریاست تسلیم کرچکے ہیں۔ حالانکہ اسرائیل نے اس فیصلے کی مذمت کی تھی اور تینوں ممالک سے اپنے سفیروں کو واپس بلا لیا تھا۔
دارالحکومت لوبیانا کے وسط میں واقع پارلیمنٹ کی عمارت کے سامنے سلووینیا اور یورپی یونین کے جھنڈوں کے ساتھ فلسطینی پرچم بھی لہرایا گیا۔
وزیر اعظم گولوب نے پارلیمان میں اپنی تقریر کے دوران سلووینیا کی سنہ 1991 میں یوگوسلاویہ سے آزادی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا،” ہم سلووینیا کے عوام اس حق کا خواب ایک ہزار برس سے دیکھ رہے تھے اور ہم نے 33 سال قبل اسے حقیقی طور پر دیکھ لیا۔ لیکن بدقسمتی سے فلسطینی عوام کو اب تک یہ حق نہیں مل سکا ہے۔”