بلوچستان کے افغانستان سے منسلک سرحدی علاقے چمن میں مظاہرین پر پاکستانی فورسزکی فائرنگ و گرفتاریوں کے بعد حالات کشیدہ ہوگئے ہیں۔
چمن میں گزشتہ روز پولیو ٹیم پر حملے کے بعد انتظامیہ نے 2 دنوں سے موبائل اور انٹرنیٹ کی سروس بھی بند کر دیا ہے۔
چمن ڈی سی آفس میں گزشتہ شب دھرنا کمیٹی اور انتظامیہ کے درمیان پولیو ٹیم پر حملے اور جاری احتجاج بارے مذاکرات کی جو بے نتیجہ اور تلخ کلامی و تذبذب کا شکار ہوا۔
ڈی سی کے دعوے کے مطابق دھرنا کمیٹی قیادت نے ڈپٹی کمشنر راجہ اطہر عباس پر حملہ کیا اور دفتر میں توڑ پھوڑ کی، ڈپٹی کمشنر کو ان کے محافظوں نے بچا لیا جبکہ پرلت کمیٹی قیادت کے اہم رہنمائوں کو گرفتار کرلئے گرفتار افراد میں پرلت ترجمان صادق اچکزئی ، غوث اللہ ، بوگئی ، مصطفی آغا خان ، مولاداد ، باقی خان ، عنایت و دیگر شامل ہے۔
، ایس ایچ او کے مطابق دھرنا کمیٹی کے 10 ارکان کے خلاف پولیو ٹیم، لیویز اہلکاروں پر حملوں کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
ایف آئی آر میں انسداد دہشتگردی کے دفعات شامل ہیں۔
ایف آئی آر سی ٹی ڈی تھانہ میں ایس ایچ او سی ٹی ڈی کی مدعیت میں درج ہوا۔
گرفتار تمام افراد کو کوئٹہ منتقل کردیا گیا ہے۔
دوسری جانب سیکورٹی فورسز نے چمن کوئٹہ شاہراہ کو کھول دیا لیکن متبادل جگہوں پر دوبارہ مظاہرین نے بند کر رکھا ہے ۔
پرلت قیادت کے رہنمائوں کی قیادت گرفتاری کے خلاف چمن شہر میں مشتعل مظاہرین نے مکمل شٹرڈان ہڑتال شروع کی جس سے تمام مارکیٹیں اور بازار سمیت سرکاری دفاتر و پریس کلب کو بند کر دیئے ۔
تمام بنک بھی بند ہیں جس سے سرکاری ملازمین تاحال تنخواہوں سے محروم ہیں۔
ڈپٹی کمشنر نے میڈیا کو بتایا کہ گزشتہ روز پولیو ٹیم اور لیویز اہلکاروں پر حملہ ناقابل برداشت ہے پر امن دھرنا اب بدامنی کی طرف نکل آئی ہے مشتعل مظاہرین نے ریڈ لائن کراس کی ہے ریاست کو چیلنج کرنے والے اب کسی رعایت کے مستحق نہیں ہے۔
دوسری جانب پرلت کمیٹی نے کہا کہ حکومت ہمارے ذمہ دار رہنمائوں کو فورا رہا کریں انہیں میٹنگ کے بہانے گرفتار کرنا قابل مذمت ہے ہماری پرلت قیادت رہا نہ کی گئی تو احتجاج کا دائرہ کار مذید سخت کریں گے ۔