صحافی عزیز میمن کے قتل کی تفتیش کے لیے تشکیل دی گئی جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) کے سربراہ اے آئی جی غلام نبی میمن نے کہا ہے کہ مرکزی ملزم کی نشان دہی ہوئی ہے اور گرفتار ایک ملزمان نے عدالت کے سامنے اعتراف جرم کرلیا ہے۔
ایڈیشنل آئی جی غلام نبی میمن نے نواب شاہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صحافی عزیز میمن کی موت حادثاتی نہیں تھی بلکہ ان کو قتل کیا گیا۔
واضح رہے کہ سندھ حکومت نے 7 مارچ کو وزیراعلیٰ کی منظوری کے بعد نوشہروفیروز میں ایک نہر میں مردہ پائے گئے صحافی عزیز میمن کے مبینہ قتل کی تحقیقات کے لیے 9 رکنی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دے دی تھی۔
صحافی عزیز میمن کی لاش 16 فروری کو نوشہروفیروز میں نہر سے برآمد ہوئی تھی جس پر ان کے اہل خانہ نے کہا تھا کہ ان کو قتل کیا گیا ہے۔
اے آئی جی نے بتایا کہ ‘ایک فیصلہ قبر کشائی کے بعد دوبارہ پوسٹ مارٹم کرنا تھا اور 11 مارچ کو فیصلہ جس کے بعد 15 مارچ کو پورسٹ مارٹم ہوا’۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘ٹیم کے رکن ڈاکٹر جو پوسٹ مارٹم ٹیم کا حصہ نہیں تھے لیکن وہ وہاں گئے اور ان کو بتایا کہ ہمیں ان پہلووں کا جائزہ لینا چاہتے ہیں اور آپ اس طرح نمونے لی اور اسی طرح ہوا، جس کے نتیجے میں مرحوم کی لاش سے ایک ڈی این اے ملا’۔
میڈیا کو آگاہ کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ‘ڈی این اے کو خاندان اور مشتبہ افراد کے ساتھ جائزہ لیا جبکہ ٹیم نے مشتبہ افراد کی فہرست بنائی جس کے لیے مقتول کے اہل خانہ تعاون کیا اور 86 افراد کا ڈین این اے کروایا’۔
غلام نبی میمن نے کہا کہ ‘ڈاکٹروں نے ڈی این اے کے نتائج مرتب کرنے میں محنت کی اور رزلٹ ہم تک پہنچ گئے ہیں، ایک مشتبہ شخص نذیر سہتو کا ڈی این اے میچ کرگیا اور جو ہمارے فائل کا حصہ ہوگئی ہے’۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘ڈی این اے کے بعد ہم نے مشتبہ شخص کو گرفتار کرلیا اور تفتیش کی جبکہ انہوں نے قتل کا اعتراف کرکے ملزمان کے نام بتائے، اسی کی بنیاد پر ہم نے چھاپے مارے اور تین ملزمان کو پکڑ لیا جبکہ دیگر 5 ملزمان کو گرفتار کرنا ہے’۔