ریکوڈک و سیندک پروجیکٹ میں غیر مقامیوں کے بھرتیوں کیخلاف بولنے پر نوجوانوں کودھمکیاں

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان کے علاقے ضلع چاغی میں  ریکوڈک اور سیندک پروجیکٹ میں غیر مقامیوں کے بھرتیوں کے خلاف پریس کانفرنس کرنے کی پاداش میں نوجوان اور ان کے لواحقین کو مختلف ذرائع سے دھمکیاں دی جارہی ہیں۔

اس سلسلے میں اہلیان چاغی نے ایک پریس ریلیز میں کہا ہے کہ ریکوڈک اور سیندک پروجیکٹ میں غیر مقامیوں کے بھرتیوں کے خلاف پریس کانفرنس کرنے کے پاداش میں نوجوان اور ان کے لواحقین کو مختلف ذرائع سے دھمکیاں موصول ہورہی ہیں۔

ان کاکہناتھا کہ قانون نافظ کرنے والے ادارے بجائے نوٹس لینے کے حق بات کرنے والوں کو انڈین ایجنٹ اور ترقی مخالف اور غدار جیسے القابات سے نواز رہے ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم اس بات کو روز روشن کی طرح عیاں کرنا چاہتے ہیں کہ اب سرزمین کے تحفظ کے راستے میں ان دھمکیوں سے ہمیں خاموش نہیں کرایا جا سکتا، آخری دم تک ساحل و وسائل کو لوٹنے کی مخالفت کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں بارڈر، زراعت، و سروس سیکٹر کے بعد اب زمینوں سے بے دخل کیا جارہا ہے اور قانونی جو حق ہے اب تو اس سے بھی محروم رکھا گیا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ بلوچستان بھر میں اپنے اتحادیوں کو اکھٹا کرکے سرزمین پر ڈھاکا زنی کے خلاف تحریک منظم کریں گے۔ اگر اپنے وسائل سے اور قانونی حق سے بے دخل کیا گیا تو ریکوڈک اور سیندک سے لوٹے گئے پتھر اور دیگر ذخائر کو باہر لے جانے کے تمام راستے بند کردیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہم تمام سیاسی پارٹیوں، انسانی حقوق کی تنظیموں، وکلاء برادری طلباء اور تمام بلوچ قوم اور خطے کے دیگر مظلوم اقوام سے اپیل کرتے ہیں کہ اس استحصال نما ظلم کے خلاف ہماری آواز کو توانا کریں اور ہمارے ساتھیوں کو کوئی نقصان پہنچایا گیا تو ذمہ دار قانون نافذ کرنے والے ادارے، چاغی میں لوٹ کھسوٹ کرنے والے کمپنیاں اور علاقائی میر معتبر اور مافیا ہونگے۔

واضع رہے کہ گذشتہ روز بلوچستان کے ضلع چاغی کے بے روزگار اور ڈگری ہولڈر نوجوانوں آغا وسیم شاہ، نعمت بلوچ، کامریڈ قادر بلوچ، ارسلان حمید، طارق شاہ، کلیم اللہ، عبد الوہاب، شفقت ناز، اسد اللہ حسنی، عارف بلوچ، معاویہ بلوچ، طاہر بلوچ، عبدالمالک، عبداللہ، ضیاالرحمن ودیگر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ضلع چاغی میں ریکوڈک پروجیکٹ میں مقامی نوجوانوں کا استحصال ہورہا ہے، مقامی نوجوانوں سے انٹرویو اور میرٹ پر پورا اترنے کے باوجود دیگر صوبوں سے بھرتیاں کی جارہی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ جوکہتا ہے ریکوڈک میں میرٹ پر بھرتیاں ہورہی ہیں وہ سراسر جھوٹ پر مبنی ہے، ریکوڈک میں میرٹ کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں میرٹ پر اترنے والے نوجوانوں سے انٹریو لیکر بعد میں کراچی ،ودیگر شہروں سے ان اسامیوں پر بھرتیاں کی جاتی ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment