پنجگور : فوٹو گرافر کمانچر بلوچ کی یاد میں تقریری مقابلہ و بک فیئر کا انعقاد

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

بلوچستان کے علاقے پنجگور میں فوٹو گرافر کمانچربلوچ کی یاد میں مقامی اسکول دی اوئیسس پبلک اسکول میں تقریری مقابلہ اور بک فیئر کا انعقادکیا گیا۔

تقریب کا انعقاد متحرک سماجی کارکن شاہ زیب منیر ، داؤد رئیس اور سمیع اللہ بلوچ نے اپنی مدد آپ کے تحت کیا۔ جس میں مختلف اسکولوں کے طلبہ وطالبات نے حصہ لیا۔

پروگرام میں دیگر شعبوں سے وابستہ افراد نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔

پروگرام کے مہمان خاص ڈپٹی میئر عبدالباقی بلوچ تھے دیگر مہمانوں میں دی اوئیسس اسکول کے بورڈ آف گورننگ کے سربراہ میجر ریٹائرڈ واجہ حسین علی سینئر استاد واجہ رسول جان ڈپٹی ڈی او پروم محمد حیات بلوچ پرنسپل دی اوئیسس اسکول نذر علی، حاجی منیر احمد، شمس الدین شمس، خورشید احمد، ابوبکر رودینی، عطا مہر اور دیگر شریک تھے۔

پروقار تقریب میں نذر، اکبر غمشاد اور ذاکر رئیس نے ججمنٹ کے فرائض سر انجام دئیے۔

اسٹیج سیکرٹری کے فرائض کمالان رفیق، اورنگزیب خالد، بی بی رخسار بلوچ اور بی بی ماحل بلوچ نے سر انجام دیے۔

دی اوئیسس اسکول میں منعقدہ پروگرام میں کمانچر کے بلوچ قوم کے لیے خدمات کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا گیا اور ان کی بے وقت موت کو ایک قومی نقصان قرار دینے کے ساتھ تعلیم کی اہمیت پر زور دیا گیا۔ خصوصاً بچیوں کی ایجوکیشن کو وقت اور حالات کی ضرورت قرار دیا گیا۔

مقررین نے کہا کہ ہم قلم وکتاب سے محبت کرنے والے لوگ ہیں علم وقلم کی طاقت سے ایک خوشحال معاشرے کا قیام عمل میں لانا چاہتے ہیں اس سلسلے میں ہماری بچیوں کا کردار اہم اور نمایاں ہے۔

انہوں نے کہا کہ منشیات اور اسلحہ کلچر ہماری ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں جو معاشرہ کو انحطاط پزیری اور زوال کی طرف لے کر جارہے ہیں جس کے خلاف شعوری بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بلوچ سماج بچیوں کے تعلیم پر بھی سنجیدگی سے غور کرے اور بچیوں کو بھی تعلیم دلائیں جب ہماری بچیاں پڑھی لکھی ہونگی تو اس سے ہمارا معاشرہ آگے بڑھے گا۔

انہوں نے کہا کہ پنجگور میں تعلیمی نظام میں اصلاحات کی ضرورت ہے نظام کافی بوسیدہ ہوچکا ہے سکول ہیں تو ٹیچر نہیں ٹیچر ہیں تو اسکول اس قابل نہیں کہ وہ تدریسی سرگرمیوں کے لیے استعمال ہوسکیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر ہم اسی طرح اپنے مسائل سے چشم پوشی کرتے رہے تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گا علم سے محبت ہمارے لیے ترقی وخوشحالی کا ضامن بن سکتا ہے بلوچ قوم کی ترقی میں خواتین کے کردار کو رد نہیں کیا جاسکتا ہے کمانچر ایک ایسی ہستی تھی جو اپنے وطن سے جنون کی حد تک محبت کرتے تھے اپنے کیمرے کے ذریعے بلوچستان کے جغرافیہ کی عکاسی کی اور بلوچ ثقافت اور عوام سے جڑے مسائل کو آشکار کیا۔

آخر میں اکبر غمشاد نے پوزیشن ہولڈرز کے ناموں کا اعلان کیا، منتظمین کی طرف سے نقد انعامات اور شیلڈ و میڈل دیے گئے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article
Leave a Comment