پاکستانی فوج نے جبری گمشدگی کے شکار آصف بلوچ او رشیدبلوچ کی بیرون جانیکا دعویٰ کیا ہے ۔
اس سلسلے میں بلوچ جبری گمشدگیوں کیخلاف موثر آواز،سرگرم ایکٹیوسٹ اور لاپتہ آصف بلوچ اور رشید بلوچ کی ہمشیرہ سائرہ بلوچ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک پوسٹ میں لکھا ہے کہ کل 29 مئی کو کوئٹہ میں بلوچستان ہائی کورٹ میرے بھائیوں کے کیس کی سماعت ہوئی ۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمارے وکیل عمران بلوچ کے مطابق FC نے اپنا بیان جمع کیا ہے جس میں لکھا گیا ہے کہ آصف اور رشید اپنی مرضی سے بیرون ملک چلے گئے ہیں ۔
سائرہ بلوچ کا کہنا تھا کہ یہ کتنی مضخہ خیز بات ہے کہ ہمارے پیاروں کو لاپتہ کرکے پھر ان پر باہر ممالک جانے کا الزام لگاتے ہیں۔
انہوںنے کہا کہ پاکستانی فوج وخفیہ اداروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میرے بھائی آپ کے زندانوں میں ہیں انہیں بازیاب کریں ۔
واضع رہے کہ آصف اور رشید کو 31 اگست 2018 کو نوشکی زنگی ناوڑ سے 9 ساتھیوں سمیت پاکستانی فورسز،CTD اور خفیہ اداروں نے حراست میں لیا تھا اور میڈیا پر تسلیم بھی کیا تھا مگر اس دن سے آج تک کئی سال گزر گئے مگر آج تک ان کی فیملی کو نہیں بتایا جارہا ہے کہ وہ کہاں ہیں اور کس جرم کی بنیاد پر لاپتہ ہیں۔