رفح کے پناہ گزین کیمپ پر فضائی حملہ ایک المناک حادثہ تھا،نیتن یاہو

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نتن یاہو کا کہنا ہے کہ اتوار کو رفح کے ایک پناہ گزین کیمپ پر کیا گیا اسرائیلی فضائی حملہ جس میں درجنوں فلسطینی پناہ گزین ہلاک ہوئے تھے ایک ’المناک حادثہ‘ تھا۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم کا یہ بیان بڑھتے عالمی دباؤ اور حملے کی مذمتوں کے بعد آیا ہے۔

غزہ کی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ اس حملے میں کم سے کم 45 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ سینکڑوں زخمیوں کو جھلسنے، فریکچرز اور چھرے لگنے کے بعد طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

اسرائیلی پارلیمان میں بات کرتے ہوئے نتن یاہو کا کہنا تھا کہ یہ اہم ہے کہ اسرائیل ’تمام ضروری احتیاطی تدابیر‘ اپنائے تاکہ غزہ میں ہونے والی جنگ کے باعث پھنسے عام شہریوں کو محفوظ رکھا جا سکے۔

تاہم انھوں نے زور دیا کہ اسرائیلی ڈیفنس فورسز نے ’اپنی پوری کوشش کی ہے کہ معصوم شہریوں کو نقصان نہ پہنچے‘ اور اس عزم کو دہرایا کہ حماس کے خلاف جنگ جاری رہے گی۔

نتن یاہو کا مزید کہنا تھا کہ ’میں اس وقت تک جنگ بندی نہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں جب تک ہمارے تمام مقاصد پورے نہیں ہو جاتے۔‘ ان کے خطاب کے دوران حماس کی جانب سے یرغمال بنائے گئے افراد کے خاندان شور مچاتے رہے، اور ان کی تقریر میں خلل ڈالتے رہے۔

وزیرِ اعظم کو ان خاندانوں کی جانب سے حماس سے معاہدہ نہ کر پانے پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔

نتن یاہو نے زور دیا کہ ’رفح سے ہم نے اب تک 10 لاکھ عام شہریوں کا انخلا یقینی بنایا ہے اور معصوم شہریوں کو نقصان نہ پہنچانے کی ہماری ہر ممکن کوشش کے باوجود بدقسمتی سے کچھ بہت غلط ہو گیا۔‘

’ہم اس معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں اور اس حوالے سے کسی نتیجے پر پہنچیں گے کیونکہ یہی ہماری پالیسی ہے۔‘

Share This Article
Leave a Comment