خضدار میں نوجوان کا قتل ،ورثا کا پولیس کیخلاف میت کے ہمراہ روڈ بلاک احتجاج

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے علاقے خضدار میں زیرو پوائنٹ پر قتل کے واقعہ کو پولیس کی جانب سے غلط رنگ دینے کی کوشش پر مقتول کے ورثا نے میت کوقومی شاہراہ پرلاکر روڈ بند کردیا ۔

مقتول کے قتل کی ایف آئی آر چاک اور ملزمان کی گرفتاری کامطالبہ بھی کیا۔

گزشتہ روز خضدار زیروپوائنٹ کے ایریا میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے محمد اشرف بزنجو نامی نوجوان ہلاک اور ملزمان فرار ہو گئے تھے ۔

قتل کے بعد مقتول کی لاش ٹیچنگ اسپتال خضدارلائی گئی ۔

مقامی انتظامیہ کی ضروری کارروائی کے بعد مقتول کی نعش کو دفنانے کیلئے ورثاءکے حوالے کردیاگیا اور اسی اثناءمیں چند گھنٹوں بعد خضدار پولیس کی جانب سے ایک تردیدی نیوز میڈیا پر وائرل ہوگئی کہ محمد اشرف بزنجو کا موت قتل نہیں بلکہ حادثاتی طور پر پیش آئی ہے جس پر مقتول کے خاندان تعیش میں آکرمقتول کی لاش کو نال سے دوبارہ لاکرقومی شاہراہ پر دکھ دیا اوردھرنے میں بیٹھ گئی۔

ورثاء نے خضدار انتظامیہ کی اس جانب دارانہ خیالات پر سخت غم وغصے کا اظہار کیااور احتجاجاً قومی شاہراہ کو آمدورفت کیلئے بند کردیا۔

بعدازاں انتظامیہ نے جاکر ورثاءسے مزاکرات کرکے انکے مطالبات کو مان لیا اور مقتول کے قاتلوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کیلئے کامیاب مزاکرات کئے گئے۔

اس موقع پر مقتول کے ورثاءنے خضدار کے مقامی صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ مقتول محمد اشرف بزنجو کو قتل کیاگیا ہے اور خضدارپولیس کی تردیدی بیان ہم پرسخت گران گزری ہے اور قتل کو غلط رنگ دینے کی کوشش پر احتجاجاً نعش کو سڑک پر رکھ کر انتظامیہ کی جانب دارانہ عمل کے خلاف احتجاج کردیا اور احتجاج کے بعد انتظامیہ نے کامیاب مزاکرات کرکے ہمارے مطالبات کو مان لیاہے اور مقتول کے قتل کی ایف آئی آر سمیت ملزمان کی گرفتاری بھی مزاکرات میں شامل تھے ۔

مذاکرات کے بعد مقتول کے ورثاءلاش کو دفنانے کیلئے پھرنال لیکر گئے اور قومی شاہراہ کو ٹریفک کیلئے کھول دی۔

Share This Article
Leave a Comment