پاکستانی مقبوضہ جموں کشمیر میں احتجاج اور مظاہروں کا آج تیسرا روز ہے۔
گزشتہ شب کوٹلی میں جرائی کے مقام پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان ایک بار پھر تصادم ہوا جس میں پولیس کے ایک ایس پی اور ایک تحصیل دار سمیت متعدد اہلکار زخمی ہوئے۔
پر تشدد احتجاج اور مظاہروں کے بعد موبائل انٹرنیٹ سروس بند کر دی گئی ہے۔ جبکہ احتجاجی مارچ کو روکنے کیلئے مظفر آباد میں فوج ورینجرز تعینات کردیاگیا ہے۔
اتوار کی صبح لانگ مارچ میں شامل قافلوں نے کوٹلی سے اپنے سفر کا آغاز کیا اور تتہ پانی کے راستے ضلع پونچھ کی حدود میں داخل ہوئے ہیں۔ تاہم اتوار کی صبح سے کسی مقام پر بھی پولیس اور مظاہرین کے درمیان تصادم کی اطلاعات موصول نہیں ہوئیں۔
لانگ مارچ کے شرکا کو آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے مقامی انتظامیہ نے پولیس کی مدد سے کئی مقامات پر سڑکوں پر مٹی ڈال کر انہیں بند کر دیا ہے۔
کئی مقامات سے رپورٹس موصول ہوئی ہیں کہ لانگ مارچ کے شرکا نے متعدد مقامات پر رکاوٹیں ہٹا کر آگے بڑھنے کے لیے راستے کلیئر کیے ہیں۔
آخری اطلاعات موصول ہونے تک قافلے ضلع پونچھ کے شہر ہجیرہ پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔
احتجاج اور پر تشدد مظاہروں کے بعد حکومت نے کشمیر کے کئی شہروں میں موبائل انٹرنیٹ کی سروسز معطل کر دی ہیں۔
انٹر نیٹ سروسز کی بندش کے حوالے سے حکام نے سرکاری طور پر کوئی بیان جاری نہیں کیا۔
اتوار کی صبح رینجرز کی ایک درجن سے زائد گاڑیاں کوہالہ کے راستے دارالحکومت مظفرآباد میں داخل ہوئی ہیں۔
حکومت اس حوالے سے کسی بھی قسم کی تفصیلات بتانے سے گریز کر رہی ہے۔
اس سے قبل پیرا ملٹری فورسز سے متعلق حکومت نے بتایا تھا کہ انہیں صرف غیر ملکیوں اور حساس تنصیبات کی حفاظت کے لیے تعینات کیا گیا ہے۔
کشمیر میں مظاہرین کی ایک بڑی تعداد لانگ مارچ کی صورت میں بجلی کی قیمتوں میں کمی اور گندم کے آٹے کی قیمت پر سبسڈی کی فراہمی کے مطالبات کے ساتھ دارالحکومت مظفرآباد کی طرف لانگ مارچ کر رہی ہے۔