صدر جو بائیڈن نے امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اعتراف کیا کہ اسرائیل نے غزہ میں حماس کو ختم کرنے کی غرض سے سات ماہ قبل جو حملے کیے، اس میں امریکہ کی جانب سے بھیجے گئے آتشی اسلحے کا استعمال بھی کیا گیا ہے۔
اسرائیل کو بھیجے گئے دو ہزار پاونڈ وزنی بموں کے بارے میں سوال پربائیڈن نے کہا، "ان بموں اور دیگر طریقوں کے استعمال کے نتیجے میں غزہ میں شہری مارے گئے۔”
غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اسرائیل کی حماس کے خلاف جنگ کے نتیجے میں اب تک تقریباً پینتیس ہزار فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر عام شہری ہیں۔
صدر بائیڈن کا کہنا تھا کہ امریکہ تاہم اسرائیل کو دفاعی ہتھیار فراہم کرتا رہے گا۔
انہوں نے کہا، ہم مسلسل اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ اسرائیل آئرن ڈوم اور حال ہی میں شرقِ وسطی سے ہونے والے حملوں کا جواب دینے کی صلاحیت کے لحاظ سے محفوظ ہو۔ لیکن ہم ہتھیار اور توپ خانے کے گولے فراہم نہیں کریں گے۔
جو بائیڈن نے تاہم بدھ کے روز پہلی بار اسرائیل کو اعلانیہ طور پر متنبہ کیا کہ اگر اسرائیلی افواج نے جنوبی غزہ میں پناہ گزینوں سے بھرے شہر رفح پر بڑا حملہ کیا تو امریکہ اسے ہتھیاروں کی فراہمی بند کر دے گا۔
بائیڈن کا کہنا تھا، "ہم نے واضح کر دیا ہے کہ اگر وہ رفح کا رخ کرتے ہیں تو ہم وہ ہتھیار فراہم نہیں کریں گے جو ان شہروں سے نمٹنے کے لیے استعمال کیے گئے ہیں جہاں یہ مسئلہ موجود ہے۔