چمن میں حالات کشیدہ ، داخلی و خارجی راستے بند، ایک اور زخمی چل بسا

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان کے افغانستان سے منسلک سرحدی علاقے چمن میں دھرنا مظاہر ین پر پاکستانی فورس ایف سی کی فائرنگ کےبعدحالات کشیدہ ہوگئے ہیں۔

گذشتہ 7 مہینوں سے جاری پرامن دھرنا مظاہرین پرلت منتظیمن نے ایف سی کی بہتے مظاہرین پر فایرنگ کیخلاف شہر کے تمام نجی بنک پاسپورٹ افس نادرا افس کوئٹہ چمن شاہراہ بند کر دیے۔

اطلاعات ہیں کہ مظاہرین نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام اور پریس کلب کو بھی بند کردیا جس پر چمن پرلیس کلب میں موجود صحافی اور پرلت منتظیمن گوتم گوتھا ہوگئے اور صحافی کو گلے سے پکڑنے کی کوشش کی جس سے پریس کلب پر تعینات پولیس اہلکار نے ناکام بنادیا اور پرلت منتظیمن نے پریس کلب کو بند کردیا ۔

سرحدی شہر چمن بارڈر مزید کشیدہ صورتحال اختیار کر گیا۔

مظاہرین نے شہرکے تمام داخلی و خارجی راستے سمیت پریس کلب و سرکاری دفاتر بند کر دیئے ۔جبکہ پرتشدد واقعات میں ایک اور زخمی چل بسا ، جس کے بعد ہلاک افراد کی کی تعداد 2 ہوگئی جبکہ 8افراد زخمی ہیں ۔

مظاہرین نے چمن شہر کے تمام داخلی و خارجی راستوں پر روکاوٹیں کھڑی کرکے کوژک جنگل پیر علیزئی اور یارو کے مقام پر ٹرانسپورٹ کیلئے بند کر دیا ۔

ٹرین کی سروس بھی معطل ہے ۔

اسی طرح تمام سرکاری دفاتر پاسپورٹ افس نادرا آفس BISP دفتر کسٹم ہاوس بنکنگ سمیت چمن پریس کلب کو بھی تالہ لگا دیا ۔

کہا جارہا ہے کہ پریس کلب میں صحافیوں کو اندر بند کر دیاگیا اور انہیںکوریج سے محروم رکھا گیا ہے۔

سیکورٹی کیلئے پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی ۔

اطلاعات ہیں کہ پریس کلب کا تالہ کھولنے پر مشتعل مظاہرین نے جلانے کی دھمکی دے دی ۔

پرلت ترجمان صادق اچکزئی کے مطابق مذاکرات کیلئے آج تک وفاقی اور بلوچستا ن حکومت کا کوئی نمائندہ نہیں آیا ۔

انہوں نے کہا کہ پرتشدد واقعات میں ہمارے نہتے افراد پر اندھا دھند فائرنگ کی گئی انسانی جانیں ضائع ہوئی ہمارے پرلت کے خیموں کو آگ لگا دی گئی جو ناقابل برداشت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم 7مہینوں سے پرامن دھرنا دے رہے ہیں لیکن ریاست ہمیں دیوار کے ساتھ لگا رہے ہیں ہم کسی صورت پیچے نہیں ہٹیں گے اور مطالبات کی منظوری تک احتجاج کا سلسلہ جاری رہیگا ۔

Share This Article
Leave a Comment