حماس جانب جنگ بندی تجویز کی قبولیت باوجودرفح میں اسرائیلی فوج کا آپریشن شروع

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

حماس نے پیر کے روز ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اس نے مصر اور قطر کی جانب سے جنگ بندی سے متعلق پیش کی جانے والی تجویز قبول کر لی ہے۔ قاہرہ میں جاری مذاکرات میں ثالث، اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ عارضی طور پر روکنے اور غزہ میں زیر حراست یرغمالوں کو رہا کرانے کی کوششیں کر رہے تھے۔

حماس کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اس کے رہنما اسماعیل ہنیہ نے قطر اور مصر کو، جو مذاکرات میں ثالث ہیں،آگاہ کر دیا ہے کہ حماس نے جنگ بندی کے معاہدے پر ان کی تجویز منظور کر لی ہے۔

حماس کے ایک سینئر عہدیدار نے کہا کہ اسرائیل کو اب یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا وہ فلسطینی سرزمین پر سات ماہ کی جنگ کے بعد جنگ بندی کو قبول کرتا ہے یا اس میں رکاوٹ ڈالتا ہے۔

دوسری جانب رفح میں اسرائیلی فوج نے آپریشن کا آغاز کردیا ۔

تل ابیب میں حکام نے بتایا ہے کہ اسرائیلی رہنماؤں نے غزہ کی پٹی کے شہر رفح میں فوجی آپریشن کی منظوری دے دی ہے،جس کے بعد اب اسرائیلی فورسز اس علاقے میں اہداف کو نشانہ بنا رہی ہیں۔

رفح میں زمینی فوجی حملے کی خبر حماس کی جانب سے مصر اور قطر کی جنگ بندی کی تجویز کو قبول کرنے کے اعلان کے چند گھنٹے بعد سامنے آئی ہے۔

وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر کے ایک بیان میں حماس کی جانب سے جنگ بندی کے معاہدےکی تجویز منظور کرنے کے اعلان کے حوالے سے کہا ہے کہ مذکورہ تجویز اسرائیل کے ضروری مطالبات سے کہیں دور ہے۔ لیکن دفتر کا کہنا تھا کہ وہ جنگ بندی کے معاہدے سے متعلق بات چیت جاری رکھنے کے لیے اپنے مذاکرات کاروں کو بھیجے گی۔

امریکہ نے کہا ہے کہ وہ اس وقت تک رفح پر زمینی حملے کی مخالفت کرے گا جب تک اسرائیل وہاں کے شہریوں کے تحفظ کے لیے کوئی قابل اعتماد منصوبہ پیش نہیں کرتا۔

غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فورسز کے حملوں اور بمباری سے بچنے کے لیے 10 لاکھ سے زیادہ افراد نے رفح کے علاقے میں پناہ لے رکھی ہے اور ان میں سے اکثر عارضی خیموں میں رہ رہے ہیں۔

حماس کی جانب سے عارضی جنگ بندی کی تجویز قبول کرنے کے اعلان کے بعد رفح میں فلسطینیوں نے خوشی کا اظہار کیا تھا۔ لیکن اس اعلان کے چند گھنٹوں کے بعد اسرائیلی فورسز نے رفح میں اپنا آپریشن شروع کر دیا۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ رفح حماس کے جنگجوؤں کا آخری مضبوط گڑھ ہے اور وہ حماس کو ختم کرنے کے اپنے عزم پر قائم ہے۔

ایک ایسے موقع پر جب عارضی جنگ بندی کی خبریں گردش کر رہی ہیں، اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ جنگ بندی کی اس تجویز پر، جسے حماس نے قبول کرنے کا اعلان کیا ہے، غور کرنے کے ساتھ ساتھ غزہ میں اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھے گا۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان ریئر ایڈمرل ڈینیئل ہگاری نے کہا ہے کہ حکام مصر اور قطر کی جانب سے پیش کی جانے والی جنگ بندی کی اس تجویز کا مطالعہ کر رہے ہیں جسے حماس نے قبول کر لیا ہے۔ ترجمان نے اس تجویز پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

Share This Article
Leave a Comment