اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے منگل کو عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ غزہ کے جنوبی شہر رفح میں فوجی آپریشن کریں گے، قطع نظر اس کے کہ حماس کے ساتھ جنگ بندی اور غزہ میں یرغمالوں کی رہائی کا کوئی معاہدہ طے ہو یا نہ ہو۔
نیتن یاہو کے دفتر نےیہ بیان، ان کی یرغمالوں کے خاندانوں کے ساتھ ملاقات سے منسوب کیا ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا، "یہ خیال کہ ہم جنگ کو اس کے تمام اہداف کےحصول سے قبل روک دیں گے،بالکل ناممکن ہے ۔ کوئی معاہدہ ہوتا ہے یا نہیں ہوتا،مکمل فتح حاصل کرنے کے لیے ہم رفح میں داخل ہو ں گے اور وہاں حماس کے دستوں کا صفایا کردیں گے ۔”
وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے تازہ بیان کے بعد اقوام متحدہ کے سربراہ انٹونیو گوٹریس نے منگل کو نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ رفح پر حملہ نہ کرے ۔
انہوں نے کہاکہ رفح پر کوئی فوجی حملہ ایک ناقابل برداشت اشتعال انگیزی ہوگی جس میں مزید ہزاروں شہری مارے جائیں گے اور لاکھوں کو نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑے گا۔
انہوں نے مزیدکہا کہ ایسی کوئی جارحانہ کارروائی غزہ میں فلسطینیوں پر تباہ کن اثر پڑے گا اور مغربی کنارے اور وسیع تر خطے پر اس کے سنگین اثرات مر تب ہوں گے۔