تربت: انتظامیہ کیساتھ مزاکرات بعد لاپتہ افراد لواحقین کا دھرنا موخر

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے ضلع کیچ ک میں لاپتہ طالب علم نعیم رحمت اور دیگر جبری گمشدگان کی بازیابی کے لیے جاری دھرنا ڈپٹی کمشنر، ڈسٹرکٹ چیئرمین اور ڈی پی او ضیاءمندوخیل کے ساتھ مذاکرات کے نتیجے میں ایک ہفتے کے لیے لاپتہ افراد کی بازیابی کی یقین دہانی پر ختم کردیا گیا۔

رات گئے انتظامیہ کی جانب سے جدگان ڈن (ڈی بلوچ) پوائنٹ پر جاکر لواحقین کے ساتھ مذاکرات کیے گئے اور انہیں ایک ہفتے کی مہلت دینے کی صورت میں لاپتہ افراد کی بازیابی سے متعلق اہم پیش رفت کی یقین دہانی کرائی گئی۔

جب کہ اس سے قبل آل پارٹیز کیچ کے وفد نے بھی فیملی کے پاس جاکر انتظامیہ کے ساتھ ثالثی کی صورت میں لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے کردار ادا کرنے کی کوشش کا ذکر کیا تھا جس پر لواحقین اور بلوچ یکجہتی کمیٹی نے ان کی یقین دہانی کے باعث ہفتے کی مہلت دیتے ہوئے احتجاج موخر کردیا۔

لواحقین کے مطابق احتجاج کسی کو زحمت دینا یا اپنے لوگوں کو تکلیف دلانا نہیں ، ان کے مطابق ایک جانب ہمارے گھر کے سربراہ اور پیارے لاپتہ کیے گئے ہیں جن کے بارے میں سال گزرنے کے باوجود ہمیں کچھ نہیں بتایا جاتا حتیٰ کہ ہمارا مطالبہ یہ بھی ہے کہ اگر وہ زندہ نہیں ہیں تو ان کی آمد کے امید پر ہمیں دھوکہ میں رہنے کے بجائے صاف بتایا جائے تاکہ ہم اپنی گھروں کی عزت اپنے نوجوان خواتین اور بوڑھے مائوں کو دن اور رات روڈ اور سڑکوں پر زلیل و خوار نہ کریں۔

Share This Article
Leave a Comment