گذشتہ دنوں ایران سے پلٹنے والے ایک طالبان کمانڈر کو حراست میں لیا گیا ہے۔
طالبان رہ نما جن کی شناخت شفیع کے نام سے کی گئی ہے حافظ عمری کے فرضی نام سے مشہور ہے۔ حافظ عمری کو ایران کے ضلع خراسان سے متصل افغانستان کے صوبہ ہرات سے حراست میں لیا گیا ہے۔
افغان حکام کا کہنا ہے کہ طالبان کمانڈر کو مسلح حالت میں ایرانی پاسداران انقلاب کی ایک گاڑی میں سفر کے دوران حراست میں لیا۔
افغان حکام کا کہنا ہے کہ طالبان کمانڈر حافظ عمری کو ایرانی پاسدارن انقلاب کی زیراہتمام گاڑی سے شیندند کے مقام سے حراست میں لیا گیا۔
تحریک طالبان اور قطرکے تعلقات کسی سے مخفی نہیں ہیں۔ یہ قطرہی ہے جس نے سب سے پہلے طالبان کو اپنی سرزمین پر سیاسی دفتر قائم کرنے کا موقع فراہم کیا۔ طالبان اور قطر ایک دوسرے کے مفادات کے لیے کام کرہے ہیں۔
افغان اور غیرملکی ذرائع ابلاغ نے افغانستان کے موجودہ اور سابق عہدیداروں کے حوالے سے کہا ہے کہ طالبان اور قطر کے باہمی تعلقات افغانستان اور ملک کی قومی سلامتی کے لیے نقصان دہ ہیں۔
حال ہی میں افغانستان کی قومی سلامتی کمیٹی کونسل کے سابق چیف رحمت اللہ نبیل نے فیس بک پر ملا عمر کے بھائی ملا عبدالمنان عمری کی ایک تصویر شائع کی۔
اس تصویر کے ساتھ انہوں نے کہا کہ یہ طالبان کمانڈر ملا عمر کے بھائی ملا عبدالمنان عمری ہیں جنہیں قطر کی طرف سے ہرماہ باقاعدگی کےساتھ پچاس ہزار ریال کی رقم فراہم کی جاتی ہے۔
قطر اور طالبان کے درمیان جون سنہ 2013ءکوتعلقات نے اس وقت ایک نیا موڑ اختیار کیا جب دوحا نے طالبان کو اپنی سرزمین پر تنظیم کا سیاسی دفتر قائم کرنے کی اجازت دی۔ طالبان نے سنہ 1996ءمیں افغانستان میں امارت اسلامیہ کےعنوان سے حکومت قائم کی جو چھ سال بعد سنہ دو ہزار ایک کو افغانستان پرامریکی یلغار سے ختم ہوئی۔
سابق امریکی صدر باراک اوباما کی طالبان کے ساتھ مفاہمتی کوششوں سے دوحا میں طالبان کو سیاسی دفتر قائم کرنے کی اجازت دی۔
مئی سنہ 2020ءمیں افغان حکومت کے ترجمان صدیق صدیقی نے کہا ک طالبان افغان عوام کا خون بہا رہے ہیں۔
ایک پریس کانفرنس میں مسٹر صدیقی نے کہا کہ افغان قوم طالبان کے ساتھ قطر کی کوششوں سے پر اسرار امن کی کوششوں کو کسی صورت میں قبول نہیں کرے گی۔