مالدیپ میں پارلیمانی انتخابات کے ابتدائی نتائج کے مطابق صدر معیزو کی جماعت نے 93 میں سے 70 سیٹیں جیت لی ہیں۔
ان نتائج کو صدر معیزو کی انڈیا فرسٹ پالیسی کو ترک کرنے اور چین کے ساتھ قربت کے ریفرینڈم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
مالدیپ کے مقامی میڈیا نے پیر کے روز بتایا کہ صدر محمد معیزو کی سیاسی جماعت نے پارلیمانی انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرلی ہے، جسے ان کی چین نواز پالیسی کی عوامی توثیق بھی قرار دیا جارہا ہے۔
میہارو ڈاٹ کام نامی ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق معیزو کی پیپلز نیشنل کانگریس 93 رکنی پارلیمان میں 70سیٹوں پر کامیابی حاصل کی ہے جب کہ ان کے اتحادیوں نے بھی تین نشستیں حاصل کی ہیں اور انہیں پارلیمان پر مکمل کنٹرول حاصل ہوگیا ہے۔
دوسری طرف بھارت نواز سابق صدر ابراہیم محمد صالح کی جماعت، جس نے سابقہ الیکشن میں 65 سیٹیں جیتی تھیں، اس مرتبہ صرف 15سیٹوں پر محدود ہوگئی۔
مالدیپ کے انتخابات پر علاقائی طاقتوں بھارت اور چین کی قریبی نگاہ تھی۔ دونوں ممالک بحیرہ ہند میں اسٹریٹیجک لحاظ سے اہمیت کے حامل اس جزیرہ نما ملک کو اپنے دائرہ اثر میں لینے کے لیے مسابقت کر رہے ہیں۔
اتوار کے ہونے والی ووٹنگ سے قبل پارلیمنٹ کا کنٹرول سابق صدر ابراہیم محمد صالح کی بھارت نواز مالدیوین ڈیموکریٹک پارٹی کے پاس تھا۔جس نے معیزو کے کئی فیصلوں پر روک لگا دی تھی۔
معیزو کے ایک سینیئر معاون نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی سے بات کرتے ہو ئے کہا تھا کہ معیزو”بھارتی فورسز کو واپس بھیجنے کے وعدے پر اقتدار میں آئے تھے اور وہ اس پر عمل کر رہے ہیں۔ لیکن وہ جب سے اقتدار میں آئے ہیں، پارلیمنٹ ان کے ساتھ تعاون نہیں کررہی ہے۔”
گزشتہ برس صدر کے طورپر معیزو کے انتخاب کے بعد بھارت اور چین کے درمیان مخاصمت بڑھ گئی تھی کیونکہ نئے صدر نے اپنی انتخابی مہم میں نہ صرف چین نواز موقف اختیار کیا بلکہ صدر بننے کے بعد مالدیپ میں تعینات بھارتی فورسز کو نکال دینے کا بھی وعدہ کیا تھا۔ انہوں نے صدر منتخب ہونے کے بعد روایتی طور پر اپنا پہلا سرکاری دورہ بھارت کے بجائے چین کا کیا تھا۔
محمد معیزو نے حال ہی میں درجنوں بھارتی فوجی افسران کو نہ صرف ملک چھوڑنے کا حکم دیا بلکہ چین کے ساتھ شراکت داری میں کئی بڑے منصوبوں اور پیش رفت کا بھی اعلان کیا۔