بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں جبری گمشدگیوں کیخلاف جاری احتجاجی کیمپ کو 5421 دن ہوگئے۔
پنجگور سے سیاسی اور سماجی کارکنان رحمت اللہ بلوچ، نزیر بلوچ ، زبیر بلوچ ، فدا بلوچ اور دیگر خواتین نے کیمپ آ کرلواحقین سے اظہار یکجہتی کی۔
وی بی ایم پی کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں قابض فوج کے ہاتھوں بلوچ نسل کشی کی کارروائیاں شدت کے ساتھ جاری ہیں ، گزشتہ روز قابض فوج نے گھروں پر حملہ کرکے عورتوں بچوں کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا ۔ پاکستان فوج شدت کے ساتھ بلوچ آبادیوں پر حملہ کرکے بلوچ نوجوانوں کو جبری اغواء کررہے ہیں لیکن نسل کشی کی کاروائیوں میں شدت سے بلوچ عوام کی قومی تحریک کے ساتھ وابستگی کوکمزور نہیں کرسکتی ۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم سے شہداء کی عظیم قربانیوں کو یاد کرنے اور ان کے نظریہ پر عمل پیراہ ہوکر اپنی قوم کو تحریک کی روشن منزل تک لے جانے کا تقاضہ کرتا ہے ۔ بلوچ قوم کے باشعور فرزندوں نے غلامی کے ہر دور میں اپنی قومی پہچان کی بقاء کے لئے سامراج کے ظلم، جبر کا سامنے کیا اور اپنے تاریخی جہد و جہد بلوچ قوم کو ظلم کی تاریکیوں میں روشن صبح کا یقین دلائی، اپنے نظریہ پر کار بند رہتے ہوئے دشمن کے ہاتھوں اذیتیں اور تکالیف برداشت کی ۔
ماما قدیر نے کہا کے قومی بقاء کے لئے جہد و جہد میں آخری سانس تک ثابت قدم رہتے ہوئے اپنی جان کی قربانیاں دیں آج ان ہزاروں شہداء کی جہد و جہد اور بے مثال قربانیوں کو نصب العین بناتے ہوئے ہمارا فرض بنتا ہے کے قومی تحریک کو سامراج کی قبضہ گیروں کی پیدا کردہ چیلنجز میں کامیابی سے ہم کنار کریں۔
ان کاکہنا تھا کہ بلوچ قوم کے بہادر اور وطن دوست فرزندوں نے ہر دور میں ظلم ، جبر اور قبضہ گیریت کے خلاف اپنے سرزمین کی اور بلوچیت کی بقاء کے لئے سروں کا نظرانہ پیش کرکے قومی تاریخ میں سنہری مثالیں قائم کی اور وہی قربانیاں بلوچ نوجوانوں کے لئے مشعل راہ ہے ۔