ایران کو اپنا حملہ 10کروڑ میں،اسرائیل کو دفاع میں ایک ارب ڈالر میں پڑا،ماہرین

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

اسرائیل پر ایرانی حملے کے حوالے سے متعدد ماہرین وتجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اعداد و شمار یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ایران نے اپنے حملے میں آٹھ سے دس کروڑ ڈالر مالیت کے ڈرونز اور میزائل استعمال کیے تھے جبکہ انہیں مار گرانے پر اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کے اخراجات کا تخمینہ ایک ارب ڈالر تک جا پہنچتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایرانی فضائیہ کی قوت اور حربی صلاحیت کے پیش نظر اسرائیل کو ایران کے اندر اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے بہت کم دشواری کا سامنا ہو گا جس کے پاس فرسودہ طیارے اور اپنا تیار کردہ دفاعی نظام ہے جو زیادہ تر روسی ماڈلز پر مبنی ہے۔

ایران نے حال ہی میں اسرائیل پر میزائلوں اور ڈرونز سے جو حملہ کیا تھا، اس میں تہران نے یہ خیال رکھا تھا کہ اس کے میزائلوں اور ڈرونز سے کم سے کم نقصان ہو۔

اسرائیل کے ایک سابق فضائی دفاع کے سربراہ زویکا ہیمووچ کا کہنا ہے کہ ایران ٹیکٹیکل بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے شعبے میں ایک بڑی قوت کی حیثیت رکھتا ہے۔

ایران کا فضائی دفاعی نظام بڑے پیمانے پر روسی ایس 200 اور ایس 300 طیارہ شکن میزائل سسٹمز کے گرد گھومتا ہے یا اس میں مقامی سطح پر تیار کردہ میزائل شامل ہیں، یا پھر وہ پرانے امریکی اور روسی جنگی طیارے ہیں جن میں سے اکثر کا تعلق شہنشاہ رضا شاہ پہلوی کی 1970 کی دہائی سے ہے۔

ہیمووچ کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی فضائیہ جدید ہے اور اس کے لیے ایران کے فضائی دفاع سے نمٹنا چیلنج نہیں ہو گا۔

لندن میں رائل یونائیٹڈ اسٹرٹیجک انسٹی ٹیوٹ کے ریسرچ فیلو سدھارتھ کوشا کہتے ہیں کہ اسرائیلی ایف۔35 جیسے طیارے ایران کے فضائی دفاعی نیٹ ورک سے بچ کر نکل سکتے ہیں، لیکن ان کے ذریعے صرف چھوٹے ہتھیار ہی لے جائے جا سکتے ہیں۔ بڑے ہتھیاروں کے لیے اسے ایف۔16 کی ضرورت پڑے گی جو ریڈار کی پکڑ میں آسکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو جوابی کارروائی کرنے سے پہلے ایران کے مزید حملوں کا خطرہ مول لینے کے لیے تیار ہونا پڑے گا اور اسے یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ وہ ایران کے مزید کتنے حملے ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

دفاعی ماہرین کہتے ہیں کہ اسرائیل کو یہ ذہن میں رکھنا ہو گا کہ ایران آئندہ کے حملوں میں اپنے میزائلوں اور ڈرونز میں سے مزید خطرناک ہتھیاروں کا انتخاب کر سکتا ہے جس کے پاس ایک اندازے کے مطابق کم ازکم ساڑھے تین ہزار میزائلوں اور ڈرونز کا ذخیرہ موجود ہے جن کی تعداد مزید کئی ہزار تک ہو سکتی ہے۔

Share This Article
Leave a Comment