امریکی صدر جو بائیڈن نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ نے ’ایران کی جانب سے داغے گئے تقریباً تمام ڈرونز اور میزائل مار گرانے میں اسرائیل کی مدد کی ہے۔‘
ایک بیان میں صدر بائیڈن نے کہا ہے کہ گذشتہ ہفتے کے دوران انھوں نے خطے میں امریکی فوجی طیاروں اور بیلسٹک میزائلوں کو تباہ کرنے والے دفاعی نظام کوبھیجنے کی ہدایت کی تھی۔
صدر کا کہنا ہے کہ ’ان تعیناتیوں (فوجی طیاروں اور دفاعی نظام) اور اپنے فوجیوں کی غیر معمولی مہارت کی بدولت ہم نے اسرائیل کی جانب آنے والے تقریباً تمام ڈرونز اور میزائلوں کو مار گرانے میں اسرائیل کی مدد کی۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ وہ ان ایرانی حملوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔
واضع رہے کہ اس سے قبل کہا تھا کہ صدر بائیڈن نے کہا ہے کہ ’ایران کے جارحانہ حملے کے خلاف عالمی سفارتی ردعمل کو مربوط بنانے کے لیے‘ اتوار کو جی سیون رہنماؤں کا اجلاس طلب کریں گے۔
صدر بائیڈن نے اپنے بیان کا اختتام کرتے ہوئے کہا ہے کہ اُن کی ٹیم اسرائیل کے رہنماؤں کے ساتھ قریبی رابطے میں رہے گی۔
بائیڈن کا کہنا ہے کہ اگرچہ امریکہ کی کسی تنصیب پر حملہ نہیں کیا گیا مگر پھر بھی ملک کی افواج تمام تر خطرات سے چوکنا رہیں گی اور ’ہم اپنے لوگوں کی حفاظت کے لیے کوئی بھی ضروری کارروائی کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کریں گے۔‘