ایران نے دمشق میں اپنے سفارتخانے پر حملے کے جواب میں سنیچر کو رات گئے اسرائیل پر 200 سے زائد میزائل اور خودکش ڈرونز داغے ہیں۔
ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق ایران نے اسرائیل پر براہ راست ڈرون حملے کیے، حملے میں اسرائیلی دفاعی تنصیباب اور فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ایران نے اسرائیل میں 50 فیصد اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایران نے اسرائیل پر براہ راست ڈرون حملے کیے جس کی تصدیق ایرانی پاسدران انقلاب نے بھی کی جبکہ اسرائیل نے ایران کے متعدد ڈرون گرانے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔
ایرانی میڈیا رپورٹ کے مطابق ایران نے اسرائیلی دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنایا، گولان کی پہاڑیوں اور شام کے قریب اسرائیلی فوجی ٹھکانوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
ایرانی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ تہران اسرائیل میں 50 فیصد اہداف کو نشانہ بنانے میں کامیاب رہا، اسرائیلی فضائی اڈے کو خیبر میزائلوں سے ٹارگٹ کیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیل پر حملے میں ان کے اتحادی یمن، لبنان اور عراق بھی شامل ہیں، اسرائیل پر مختلف سمتوں سے حملہ کیا جارہا ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اسرائیل کی حدود میں پہنچنے سے قبل ہی بیشتر میزائلوں اور ڈرونز کو ’ایرو‘ نامی فضائی دفاعی نظام اور خطے میں موجود اتحادیوں کی مدد سے ناکام بنا دیا ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے قوم سے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ ملک کی فوج ہر طرح کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔
ایران نے کہا ہے کہ وہ اسرائیل پر مزید حملے نہیں کرے گا تاہم اسرائیل یا امریکہ کی جانب سے کسی بھی جوابی کارروائی کی صورت نتائج ہوں گے۔