جرمن ایئر لائن لفتھانزا نے جمعرات کو مشرق وسطیٰ کی صورت حال کی وجہ سے تہران کے لیے اپنی پروازوں کی معطلی میں توسیع کر دی ہے، جو کہ شام میں ایرانی قونصل خانے پر مشتبہ اسرائیلی فضائی حملے کےخلاف ایران کی کسی جوابی کارروائی کے لیے الرٹ ہے۔
لفتھانزا نے جمعرات کو کہا کہ اس نے تہران سے پروازوں کی آمد و رفت کی معطلی میں دو دن کی توسیع کر کے ممکنہ طور پر 13 اپریل تک پروازیں معطل کر دی ہیں۔
ایک ترجمان نے کہا کہ اس نے گزشتہ اختتام ہفتہ فرینکفرٹ سے تہران کے لیے فلائٹ معطل کرنے کا فیصلہ کیا تھا تاکہ عملے کو تہران میں رات گزارنے کے لیے اترنے سے بچایا جا سکے۔
لفتھانزا اور اس کی ذیلی کمپنی آسٹرین ایئر لائنز تہران کے لیے پرواز کرنے والی صرف دو مغربی ایئرلائنز ہیں، جہاں زیادہ تر ٹرکش اور مشرق وسطیٰ کی ایئر لائنز خدمات انجام دیتی ہیں۔
آسٹرین ایئر لائنز نے، جو لفتھانزا کی ملکیت ہے اور ہفتے میں چھ بار ویانا سے تہران کے لیے پرواز کرتی ہے، کہا ہے کہ وہ اب بھی جمعرات کو پرواز کرنے کا ارادہ کر رہی ہے لیکن رات بھر کے وقفے سے بچنے کے لیے اوقات کو ایڈجسٹ کر رہی ہے۔
تہران کے لیے پرواز کرنے والی دیگر بین الاقوامی ایئر لائنز کی جانب سے فوری طور پر کوئی بیان سامنےنہیں آیا۔
شمالی امریکہ میں امارات اور قطر ایئرویز کی پروازوں کے لیے ایرانی فضائی حدود بھی ایک اہم اوور فلائٹ روٹ ہے۔
شام کے دارلحکومت دمشق میں ایرانی سفارتخانے پراسرائیلی حملے کے بعد امریکا، یورپی یونین اور اسرائیل تہران کی کسی بھی جوابی کارروائی کے لیے الرٹ ہیں۔
شام حملے میں ایرانی پاسداران انقلاب کے 7 ارکان ہلاک ہوئے تھے، جن میں اس کی ایلیٹ یونٹ قدس فورس کے ایک سینئر کمانڈر بھی شامل تھے۔
ایرانی روحانی لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے عید الفطر کے موقع پر اپنی تقریر میں شام میں ایرانی جنرلز کی ہلاکت پر اسرائیل کے خلاف انتقامی کارروائی کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا تھاکہ اسرائیل کو اس حملے کے لیے "سزا ملنی چاہیے اور ایسا ہو گا۔”