آسکر ونر اداکار ہواکین فینکس، معروف ہدایت کار جوئل کوئن اور اداکار ایلیٹ گولڈ سمیت یہودی مذہب سے تعلق رکھنے والے اداکاروں، ہدایت کاروں، فلم سازوں نے غزہ جنگ بندی کے لیے ایک خط پر دستخظ کیے ہیں۔
لگ بھگ 150 سے زائد یہودی فن کاروں نے غزہ جنگ کے خلاف اپنا احتجاج ایک اوپن لیٹر کے ذریعے ریکارڈ کرایا۔
آسکر انعام یافتا اداکار ہواکین فینکس، معروف ہدایت کار جوئل کوئن، اداکار ایلیٹ گولڈ، ہدایت کار ٹوڈ ہینز اور کامیڈین ڈیوڈ کراس سمیت یہودی مذہب سے تعلق رکھنے والے اداکاروں، ہدایت کاروں، فلم سازوں اور اسکرپٹ رائٹرز نے اس مذمتی خط کے ذریعے جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔
خط میں ان کے مطالبات میں جنگ بندی کے ساتھ ساتھ یرغمالوں کی واپسی کو یقینی بنانا اور امدادی سرگرمیوں کو بحال کرنا بھی شامل ہے۔
خط میں ان افراد کی مذمت بھی کی گئی جنہوں نے رواں برس اکیڈمی ایوارڈز کے دوران تقریر کرنے والے دی زون آف انٹرسٹ کے ہدایت کار جوناتھن گلیزر پر تنقید کی تھی۔
یاد رہے کہ برطانوی ہدایت کار جوناتھن گلیزر نے بہترین انٹرنیشنل فلم کا ایوارڈ قبول کرتے ہوئے اپنی تقریر میں غزہ جنگ بندی کا مطالبہ کیا تھا۔ ان کے خیال میں اس لڑائی سے اسرائیل اور غزہ دونوں ہی کے شہری غیر انسانی سلوک کا شکار ہیں۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ دی زون آف انٹرسٹ کی کہانی بھی ہولوکاسٹ اور ایک ایسے کیمپ کے گرد گھومتی ہے جسے ہٹلر کے ساتھیوں نے دوسری جنگِ عظیم کے دوران قائم کیا تھا۔
آسکرز کی تقریب میں جہاں ہدایت کار جوناتھن گلیزر کی تقریر کو سراہا گیا وہیں کئی اداکاروں نے ان پر تنقید بھی کی۔ لگ بھگ 450 یہودی فن کاروں نے ایک اوپن لیٹر کے ذریعے اس تقریر کی مذمت کی۔
ان فن کاروں میں معروف سیریز دی مارویلس مسز میزل کے خالق ایمی شرمن پالاڈینو کے ہمراہ ہدایت کار ایلائی روتھ اور اداکاراؤں جنیفر جیسن لی اور ڈیبرا میسنگ شامل ہیں۔
اس اوپن لیٹر کے بعد سے ہدایت کار جوناتھن گلیزر پر تنقید کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔
اب اس کے جواب میں جمعے کو 150 سے زائد یہودی فن کاروں نے ایک اور اوپن لیٹر پر دستخط کر کے ایوارڈ وننگ ہدایت کار کا ساتھ دیا۔
جمعے کو شائع ہونے والے اس خط میں لکھا ہے کہ "ہمیں یہودی ہونے پر فخر ہے لیکن ہم یہودیت کا نام خراب ہونے اور ہولوکاسٹ کی یاد کو تباہ کرنے کے سخت خلاف ہیں۔”
خط پر دستخط کرنے والوں نے یہ بھی کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ غزہ میں چھ ماہ سے جاری جنگ کو مستقل طور پر ختم کیا جائے۔ فن کاروں کے مطابق وہ گزشتہ کئی دہائیوں سے جاری اس تنازع میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھنے والوں کے غم میں شریک ہیں چاہے وہ اسرائیلی یا فلسطینی ہو۔