اقوام متحدہ کا اسرائیل کو ہتھیاروں کی فروخت وفراہمی پر پابندی عائد کرنیکا مطالبہ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read
فوٹو: روئٹرز

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل (یو این ایچ آر سی) نے اسرائیل کو ہتھیاروں کی فروخت اور ترسیل پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

انسانی حقوق کے اس اعلیٰ ترین ادارے نے یہ مطالبہ آج جمعے کے روز منظور کی گئی ایک قرارداد میں کیا۔

یہ مطالبہ اسرائیل کو ہتھیاروں کی فروخت یا ترسیل کرنے والے ممالک سے کیا گیا ہے اور اس کا مقصد غزہ میں اسرائیل کی فوجی مہم کے دوران فلسطینیوں کے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکنے میں مدد کرنا ہے۔

47 رکنی انسانی حقوق کونسل میں اس قرارداد کے حق میں اٹھائیس اور مخالفت میں چھ ووٹ ڈالے گئے جبکہ تیرہ اراکین ووٹنگ کے دوران غیر حاضر رہے۔

اس قراداد میں اسرائیل کی جانب سے غزہ میں پانی تک رسائی میں رکاوٹ ڈالنے اور فلسطینی علاقوں میں انسانی امداد کی ترسیل محدود کرنے جیسے اقدامات روکنے کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ کے حمایت یافتہ آزاد تفتیش کاروں سے بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ہتھیاروں، گولہ بارود اور "دوہرے استعمال” والی ایسی اشیا کی ترسیل کے بارے میں رپورٹ کریں، جنہیں اسرائیل فلسطینیوں کے خلاف سول اور فوجی دونوں مقاصد کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔

اس قراداد کی پابندی ضروری نہیں ہے۔ تاہم اس قراداد پر مغربی ممالک منقسم ہو گئے۔ امریکہ، جرمنی اور بعض دیگر مغربی ممالک نے اس قرارداد کی مخالفت کی جبکہ کئی غیر حاضر رہے اور کچھ یورپی ممالک نے اس قراداد کےحق میں ووٹ دیا۔

اسرائیل یو این ایچ آر سی کو اس کے مبینہ اسرائیل مخالف تعصب پر باقاعدگی سے تنقید کا نشانہ بناتا رہا ہے۔ کونسل نے اسرائیل کے خلاف گذشتہ برسوں میں فلسطینیوں کے خلاف کیے گئے اقدامات کے لیے کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں کہیں زیادہ قراردادیں منظور کی ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment