پاکستان میں عدالتی امور میں خفیہ اداروں کی مداخلت پرتحقیقاتی کمیشن بنانیکا فیصلہ

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

پاکستان کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ ان کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کی جانب سے عدالتی امور میں آئی ایس آئی کی مداخلت کی شکایات کی تحقیقات کے لیے ایک رُکنی کمیشن بنائے گی۔

جمعرات کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان ملاقات کے بعد وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ اور اٹارنی جنرل منصور اعوان نے ایک پریس کانفرنس کی۔

اس ملاقات میں سپریم کورٹ کے کے سینیئر جج جسٹس منصور علی شاہ بھی شریک تھے۔

وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ یہ ملاقات چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی خواہش پر ہوئی تھی۔

انھوں نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے ملاقات میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کے جانب سے کی گئی شکایات پر چھان بین کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے اور یہ طے پایا ہے کہ تحقیقات کے لیے سابق عدالتی شخصیت پر مشتمل ایک رُکنی کمیشن بنایا جائے گا۔

انھوں نے مزید کہا کہ ملک میں قانون موجود ہے اور آئین کے مطابق اور اس طرح کے معاملات پر تحقیقات حکومت کرواتی ہے۔

واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چھ ججز نے 25 مارچ کو سپریم جوڈیشل کونسل کو لکھے گئے اپنے خط میں عدالتی امور میں آئی ایس آئی اور دیگر انٹیلی جنس اداروں کی طرف سے براہ راست مداخلت اور ججوں کو ہراساں کرنے کے الزامات عائد کیے تھے۔

وزیرِ قانون کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف کل یہ معاملہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں رکھیں گے اور ان کے خیال میں دو یا چار دنوں میں اس کمیشن کے حوالے سے ایک نوٹیفکیشن بھی جاری ہوجائے گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ کمیشن کے لیے ریٹائرد چیف جسٹسز اور ریٹائرڈ ججو کے نام بھی زیرِ غور آئیں گے۔

وزیرِ قانون کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے چیف جسٹس کو یقین دہانی کروائی ہے کہ ان کی حکومت عدلیہ کی آزادی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔

Share This Article
Leave a Comment