ایچ آر سی پی نے کبیر بلوچ، مشتاق بلوچ اور عطااللہ بلوچ کی 15 سالوں سے گمشدگی پر اظہار تشویش کیا ہے ۔
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے اپنے جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا ہے کہ بلوچستان کے علاقے خضدار میں سیاسی کارکنوں کبیر بلوچ، مشتاق بلوچ اور عطاء اللہ بلوچ کو جبری طور پر لاپتہ ہوئے آج 15 سال بیت گزر چکے ہیں۔
ایچ آر سی پی کو اس بات پر تشویش ہے کہ باوجود اس کے کہ یہ کیسز جبری گمشدگیوں سے متعلق تحقیقاتی کمیشن (سی او آئی ای ڈی) میں رجسٹرڈ ہیں، متاثرین کے اہل خانہ کو ابھی تک یہ معلوم نہیں کہ ان کے پیارے کہاں ہیں، اور یہ کہ کیا وہ محفوظ یا زندہ بھی ہیں یا نہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ اپنے شہریوں کا سراغ لگانے، مجرموں نشاندہی اور انہیں جوابدہ ٹھہرانے میں ریاست کی ناکامی مجموعی طور پر بلوچستان کے حوالے سے اس کی قابلِ مذمت پالیسی کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ بے حسی جاری نہیں رہنی چاہیے۔ سی او آئی ای ڈی کو شفافیت اور جوابدہی کی کمی پر جوابدہ ٹھہرایا جانا چاہیے، جب کہ نئی حکومت کو جبری گمشدگیوں کے گھناؤنے جرم کے خاتمے کا اعلانیہ عہد کرنا چاہیے۔