عالمی کارپوریشنز غریب ملکوں کا پانی ہتھیارہی ہیں،آکسفوم

0
34

عالمی امدادی ادارے آکسفوم کا کہنا ہے کہ عالمی کارپوریشنز اپنے منافع کو بڑھانے کے لئے غریب ملکوں پانی ہتھیارہی ہیں۔

جمعرات کو شائع ہونے والی اپنی رپورٹ میں آکسفوم نے بڑی عالمی کارپوریشنوں پر پانی کے اہم وسائل ہتھیانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ نجی شعبہ منافع کمانے کے لئے مقامی آبادی کی قیمت پر ان وسائل کو ہتھیا رہا ہے اور آلودہ کر رہا ہے۔ جس سے عدم مساوات میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔

آکسفوم نے امیر ممالک اور کثیر القومی کارپوریشنوں پر پانی کی کمی کو غریب خطوں کی جانب منتقل کرنے کا الزام لگایا ہے جسکے لئے وہ ان علاقوں سے ایسی مصنوعات درآمد کرتے ہیں جنکے لئے پانی کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے ، جیسے پھل، سبزیاں، گوشت، پھول اور بوتلوں میں پانی وغیرہ۔

آکسفوم فرانس کے زراعت اور خوراک کے ماہر کوئنٹن گیسکر نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ تین سو پچاس کارپوریشنوں میں سے، جنکا ڈیٹا بیس کے ذریعے تجزیہ کیا گیا اور جو دنیا میں زرعی آمدنی کے نصف حصے کو کنٹرول کرتی ہیں، ان میں چار میں سے صرف ایک یہ اعلان کرتی نظر آتی ہے کہ وہ پانی کے استعمال اور آلودگی کو کم کر رہی ہے۔

آکسفوم کی کی رپورٹ میں سخت ضابطوں کی سفارش کی گئی ہے اور ترقی پذیر ملکوں میں اس مد میں بھاری فنڈنگ اور پانی تک عالمی رسائی کے لئے کہا گیا ہے۔

جنوبی افریقہ کے سب سے بڑے شہر جوہانسبرگ میں پانی کے نلکے کئی ہفتوں سے خشک ہیں جس سے لاکھوں لوگ متاثر ہو رہے ہیں۔

وئیٹو شہر کے مضافات میں ہزاروں لوگ ان ٹینکروں سے جو شہر سے باہر سے پانی لیکر آتے ہیں، بوتلوں اور بالٹیوں میں پانی لینے کے لئے قطاروں میں کھڑے نظر آتے ہیں۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کی بدتر ہوتی ہوئی صورت حال، جنوبی افریقہ ہی نہیں بلکہ دنیا کے بہت سے دوسرے حصوں میں بھی آبی ذخیروں کے خشک ہو جانے کا سبب بن رہی ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here