یورپی یونین کے سربراہ برائے خارجہ امور کے مطابق اسرائیل غزہ میں بھوک کو بطور جنگی ہتھیار استعمال کر رہا ہے۔
یورپی یونین کے خارجہ امور کے سبراہ جوزیپ بوریل کا غزہ کے لیے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد سے متعلق برسلز میں پیر کے روز ایک کانفرنس کے افتتاح کے موقع پر کہنا تھا، غزہ میں اب ہم قحط کے دہانے پر نہیں بلکہ ہم قحط کی حالت میں ہیں، جس سے ہزاروں لوگ متاثر ہو رہے ہیں۔‘‘
انہوں نے مزید سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا، یہ ناقابل قبول ہے۔ بھوک کو بطور جنگی ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے۔‘‘
جوزیپ بوریل کا کہنا تھا، غزہ میں اب ہم قحط کے دہانے پر نہیں بلکہ ہم قحط کی حالت میں ہیں، جس سے ہزاروں لوگ متاثر ہو رہے ہیں۔‘‘جوزیپ بوریل کا کہنا تھا، غزہ میں اب ہم قحط کے دہانے پر نہیں بلکہ ہم قحط کی حالت میں ہیں، جس سے ہزاروں لوگ متاثر ہو رہے ہیں۔‘‘
دریں اثنا غزہ کی وزارت صحت نے اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں کے بارے میں تازہ اعداد و شمار جاری کیے ہیں، جن کے مطابق سات اکتوبر کے بعد سے شروع ہونے والی اس جنگ میں اب تک 31700 سے زائد فلسطینی مارے جا چکے ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد تقریباً 73800 بنتی ہے۔
غزہ کی وزارت صحت کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید تقریباً 81 فلسطینی ہلاک اور 116 زخمی ہوئے ہیں۔