بھارت کی حکومت کی جانب سے شہریت کے ترمیمی قانون ’سی اے اے‘ کے نفاذ کے اعلان کے بعد جہاں ملک کے بعض علاقوں میں احتجاج ہو رہا ہے وہیں امریکہ، اقوامِ متحدہ، انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل اور افغانستان میں برسرِ اقتدار طالبان نے بھی اظہار تشویش کیا ہے اور اسے امتیازی قانون قرار دیا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا کہ امریکہ 11 مارچ کو کئے جانے والے سی اے اے کے سرکاری اعلامیے پر تشویش میں مبتلا ہے۔ ہم اس پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہیں کہ اس کا نفاذ کیسے ہوتا ہے۔
خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق ترجمان نے ایک ای میل پیغام میں کہا کہ مذہبی آزادی کا احترام اور قانون کے تحت تمام برادریوں کے ساتھ مساوی سلوک جمہوری اصولوں کی بنیاد ہے۔
اقوامِ متحدہ میں انسانی حقوق کے ہائی کمشنر کے ایک ترجمان نے کہا "جیسا کہ ہم نے 2019 میں کہا تھا کہ سی اے اے بنیادی طور پر امتیازی قانون ہے اور بھارت پر جو بین الاقوامی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں ان کی خلاف ورزی ہے۔”
ترجمان کے مطابق اس بات کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ اس کے نفاذ کے ضابطے عالمی قوانین کے مطابق ہیں یا نہیں۔
شہریت کے اس ترمیمی ایکٹ (سی اے اے ) کے تحت ان ہندو، پارسیوں، سکھوں، مسیحیوں اور بدھ اور جین مت ماننے والوں اور دوسروں کو بھارت کی شہریت دی جا سکتی ہے جو 31 دسمبر 2014 سے قبل مسلم اکثریتی ملکوں، افغانستان، بنگلہ دیش اور پاکستان سے فرار ہو کر ہندو اکثریتی ملک بھارت میں آئے ہوں۔
دوسری طرف افغانستان میں برسرِ اقتدار طالبان نے پہلی بار اس معاملے پر کوئی ردِ عمل ظاہر کیا ہے۔ دوحہ میں طالبان کے ترجمان اور اس کے سیاسی دفتر کے سربراہ سہیل شاہین نے بھارت کی ایک نیوز ویب سائٹ ’دی وائر‘ سے گفتگو میں کہا کہ کوئی بھی قانون بلا امتیاز مذہب سب کے لیے ہونا چاہیے۔
انہوں نے وائر کے لیے ایک بیان میں کہا کہ یہ قانون سب پر نافذ ہونا چاہیے خواہ وہ مسلمان، ہندو سکھ کوئی بھی ہو۔
انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ’ایمنسٹی انٹرنیشنل‘ نے بھی کہا ہے کہ سی اے اے کا نفاذ مساوات اور مذہبی عدم امتیاز کی آئینی اقدار کے لیے ایک دھچکا ہے اور انسانی حقوق کے تعلق سے بھارت کی عالمی ذمہ داریوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا کے سربراہ آکار پٹیل کا کہنا ہے کہ سی اے اے ایک متعصبانہ قانون ہے جو مذہب کی بنیاد پر امتیاز کا جواز فراہم کرتا ہے اور اسے کبھی بھی نافذ نہیں کیا جانا چاہیے۔
ان کے مطابق اس کا نفاذ بھارتی حکومت کی جانب سے ملک بھر کے عوام، سول سوسائٹی، انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور اقوامِ متحدہ کے احتجاج اور مخالفت کو نظر انداز کرنا ظاہر کرتا ہے۔
یاد رہے کہ حکومت نے دسمبر 2019 میں حزبِ اختلاف کی شدید مخالفت کے باوجود پارلیمان کے دونوں ایوانوں سے اس قانون کو منظور کرایا تھا۔